پی ٹی آئی کا حکومت سے مزید مزاکرات کرنے سےانکار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) نے حکومت سے مزید مزاکرات کرنے سےانکارکرتے ہوئے کہاہےکہ ہم نے اس حوالے سے باضابطہ آگاہ بھی کردیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فارم 47 کے باعث بننے والی حکومت شروع سے جلد بازی میں قانون پاس کروا رہی ہے، کل حکومت کے ساتھ مذاکرات میں نہیں بیٹھیں گے، اس حوالے سے باقاعدہ سیکریٹری اسپیکر کو بھی آگاہ کردیا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ دور حاضر میں ہر فرد کو آپڈیٹ کرنے والا ادارہ میڈیاہے جو حالات وواقعات سے باخبر رکھتا ہے، آج اسی کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چئیرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت پیکا ایکٹ بل کے تحت کسی پر بھی فیک نیوز کا الزام لگااٹھالیا جاتاہے جبکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔