مارک اینڈریسن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی اور دنیا کے معروف ٹیک سرمایہ کاروں میں سے ایک، نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈیپ سیک کو "سب سے زیادہ حیرت انگیز اور متاثر کن پیش رفتوں میں سے ایک" قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ حال ہی میں لانچ ہونے والی چین کی مصنوعی ذہانت کی ایپ (DeepSeek) نے امریکہ اور یورپ کو ہلا کر دکھ دیا ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹ میں پیر کو حیران کن کمی دیکھنے کو ملی، چب بنانے والی کمپنی نویڈا (Nvidia) کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 600 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ، میٹا کی ویلیو میں تیزی سے کمی ہوئی۔ Nvidia کے حریف مارویل، براڈ کام، مائکرون اور TSMC سب بھی تیزی سے گر گئے۔ اوریکل (ORCL)، Vertiv، Constellation، NuScale اور دیگر توانائی اور ڈیٹا سینٹر کمپنوں کی سٹاک مالیت بھی گر گئی۔ امریکی میڈیا نے اس پیشرفت کو امریکہ کی ٹیکنالوجی کی صنعت کے ناقابل تسخیر ہونے کی چمک کو حقیقی خطرہ قرار دیا ہے۔ چینی کی مصنوعی ذہانت کی ایپ ڈیپ سیک، ایک سال پرانے اسٹارٹ اپ نے گزشتہ ہفتے ایک شاندار صلاحیت کا انکشاف کیا تھا کہ اس نے R1 نامی ChatGPT نما AI ماڈل پیش کیا، جس میں وہ تمام صلاحیتیں ہیں جو OpenAI، Google یا Meta کے مقبول اے آئی ماڈلز میں موجود ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ اس نے اپنے بیس ماڈل کے لیے کمپیوٹنگ پاور پر صرف 5.

6 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں، اس کے مقابلے میں امریکی کمپنیاں اپنی AI ٹیکنالوجیز پر کروڑوں یا اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔ میٹا نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ اس سال AI کی ترقی پر 65 بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کرے گا۔ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے پچھلے سال کہا تھا کہ اے آئی انڈسٹری کو کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ لیکن چینی چیٹ بوٹ چند ملین ڈالر میں تیار ہوا اور تہلکہ مچا دیا۔ ڈیپ سیک کی مقبولیت کے بعد پیر کے روز امریکی مارکیٹوں خاص طور پر ٹیک سیکٹر میں طوفان برپا کر دیا۔ سوموار کے دن ڈیپ سیک کی اچانک مقبولیت کے بعد اینویڈیا سمیت مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت کے بڑے ناموں، بشمول مائیکروسافٹ اور گوگل،کی سٹاک مالیت میں گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ مارک اینڈریسن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی اور دنیا کے معروف ٹیک سرمایہ کاروں میں سے ایک، نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈیپ سیک کو "سب سے زیادہ حیرت انگیز اور متاثر کن پیش رفتوں میں سے ایک" قرار دیا۔

سی این این نے اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک نسبتاً نامعلوم AI سٹارٹ اپ کی شاندار کامیابی اس وقت اور بھی چونکا دینے والی ہو جاتی ہے جب اس بات پر غور کیا جائے کہ امریکہ نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کئی سالوں سے چین کو ہائی پاور AI چپس کی فراہمی کو محدود کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چند گھنٹے قبل امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو تنبیہ کی اور کہا کہ چینی ایپ کے بعد ہماری انڈسٹری کو جاگ جانا چاہیے۔ انھوں نے چینی ایپ کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کے پاس سب سے عظیم سائنس دان ہیں اور یہ بات مجھے چینی قیادت بھی بتا چکی ہے۔ واضح رہے کہ ڈیپ سیک، جو اے آئی چیٹ باٹ ہے، کسی اور حریف ایپ کے مقابلے میں بہت سستی ہے اور گزشتہ ہفتے لانچ ہونے کے بعد سے امریکہ میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار ہونے لگی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کی میں سے ایک سے زیادہ قرار دیا ڈیپ سیک کے بعد کہا کہ اے آئی

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی