آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے رائٹس خریدنے کیلئے پی ٹی وی کی تنخواہوں میں تاخیر کی، وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے رائٹس کیلئے بڑی ادائیگی کرنا تھی جس کی وجہ سے پی ٹی وی کی تنخواہوں میں تاخیر ہوئی۔
نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ارکان کو بریفنگ دی اور ان کے سوالات کے جوابات دیے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی کی تنخواہ، آئی سی سی کی ادائیگی کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی، میں چاہتا تھا کہ عوام چیمپئینز ٹرافی دیکھنے سے محروم نہ ہوں، کئی نجی میڈیا چینلز نے کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کیں، کئی چینلز کے مالکان رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے کما رہے ہیں لیکن تنخواہیں نہیں دے رہے۔
کنونیئر کمیٹی سحر کامران نے کہا کہ ہمارا نجی میڈیا سے کوئی تعلق نہیں آپ پی ٹی وی کا جواب دیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی میں ڈگریوں کی تصدیق 31 جنوری تک مکمل کرلیں گے، جعلی ڈگری والے 200 ملازمین بھی نکالنے پڑے تو نکالوں گا، پی ٹی وی میں “نیور گو ہوم” کی پالیسی چل رہی تھی، ملازمین یا افسران کو ریٹائرڈ ہونے پر دوبارہ بھاری تنخواہوں پر بھرتی کرلیا جاتا ہے، حال ہی میں ایسے 12 افراد کو فارغ کیا گیا، پی ٹی وی میں نجی شعبے سے معروف اینکرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ ہمارا مقصد پی ٹی وی کے ریونیو میں اضافہ کرنا ہے، سفارش پر بھرتی ہونے والے افراد سے ہم نے معذرت کی، پروڈکشن ٹیم کے اخراجات زیادہ ہیں، اینکرز سے کہا ہے کہ وہ اشتہارات لائیں تو انہیں کمیشن دیا جائے گا، نجی شعبے میں اشتہارات کی وجہ سے اینکرز کو بھاری تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، پی ٹی وی میں پرائیویٹ سیکٹر سے 10 اینکرز لائے گئے، اسپورٹس چینل سے ہمیں اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے اینکرز پی ٹی وی آنے کے لئے تیار نہیں تھے، پی ٹی وی ٹیریسٹیریل نشریات پیش کرتا ہے، دور دراز علاقوں میں لوگوں کو نشریات کے لئے انٹرنیٹ یا دیگر ذرائع کی ضرورت نہیں ہوتی، دور دراز کے علاقوں میں لوگ عام اینٹینا لگا کر پی ٹی وی کی نشریات دیکھ سکتے ہیں، سیاسی بنیادوں پر ہر دور میں بھرتیاں ہوئیں، ایسی بھرتیوں کی وجہ سے ادارے کو نقصان پہنچا، نجی شعبہ میں تین تین ماہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے، پی ٹی وی میں صرف 21 دن تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو ہر جگہ شور مچایا گیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے رائٹس کیلئے بڑی ادائیگی کرنا تھی جس کی وجہ سے پی ٹی وی میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی، ہماری خواہش تھی کہ پاکستان کے ہر علاقے اور گاﺅں میں لوگ چیمپئنز ٹرافی دیکھیں، ہم نے کرکٹ کے رائٹس کو محفوظ کیا، 15 جنوری کو گروپ 1 سے 6 تک کی تنخواہیں ادا کیں اور اس کے بعد گروپ 6 سے 9 تک کی تنخواہیں ادا کی گئیں۔
اجلاس کے دوران آسیہ ناز تنولی کے پیمرا ترمیمی بل پر غور کیا گیا، بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ انٹرٹینمنٹ چینلز کے ڈراموں اور اشتہاروں کیلئے بھی ایک سینسر بورڈ ہونا چاہیے، ایسے ڈرامے اور اشتہار بھی چلائے جا رہے ہیں جو فیملی کے ساتھ نہیں دیکھے جا سکتے۔
چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اس معاملے پر ٹی وی چینلز کے ساتھ مشاورت ہونی چاہیے، کچھ ٹی وی چینلز کی انتظامیہ سے ہم بات کر چکے ہیں۔
پیمرا ترمیمی بل پر ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ذیلی کمیٹی انٹرٹینمنٹ چینلز کے نمائندوں کا موقف بھی سنے گی۔
دریں اثنا میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ کئی سال بعد پاکستان میں بڑے ایونٹس کا آغاز ہو رہا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد اسپورٹس کا میگا ایونٹ پاکستان میں کھیلا جائے گا، ماضی میں پاکستان میں کھیل کے میدان ویران ہو گئے تھے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی نیشنل براڈ کاسٹر ہے، پی ٹی وی اسپورٹس کی ریٹنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے، آئی سی سی کے رائٹس کے حصول کے لئے بروقت ادائیگی کی، ان کی تمام شرائط پوری کی ہیں پی ٹی وی آئی سی سی کے تمام میچز دکھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ نشریات کے لیے اچھا پینل ترتیب دے رہے ہیں، شعیب اختر، شعیب ملک سمیت دیگر اسٹارز کو اسکرین پر لایا جائے گا، پی ٹی وی اسپورٹس کو مزید آگے بڑھائیں گے، ماضی میں پی ٹی وی اسپورٹس کے اندر معاملات درست نہیں تھے، ماضی میں پی ٹی وی کے اندر اس طرح ریفارمز نہیں کی گئیں جس طرح ہونی چاہئے تھیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ آئی سی سی کی ادائیگیوں کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل نہیں تھا ہماری کوشش ہے کہ شفاف نظام کے تحت اسپورٹس چینل کو بحال کیا جائے، ریڈیو پاکستان میں آن لائن پنشن کا اچھا نظام متعارف کرایا گیا ہے، گھوسٹ ملازمین کی شناخت کرنے والے افسران کو شاباش دینی چاہئے،گھوسٹ ملازمین کو نکال کر قوم کا پیسہ بچایا ہے، باقی اداروں میں بھی اس طرح کام کرنے کی ضرورت ہے،پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی تنخواہیں ادا پی ٹی وی میں پاکستان میں کی ادائیگی پی ٹی وی کی میں تاخیر کی وجہ سے چینلز کے کے رائٹس تارڑ نے کیا گیا
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔