مذاکراتی کمیٹی 31 جنوری تک قائم رہے گی: عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
سینیٹر عرفان صدیقی — فائل فوٹو
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ہم نے مذاکرات میں ڈیمانڈز پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویسے بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے اور اگر ان کا فیصلہ ہے کہ وہ نہیں آئیں گے تو پھر ہم بھی دیکھیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ کمیٹی میں 7 حکومتی اتحادی شامل ہیں اور سب کی اپنی مصروفیات ہیں، وہ بتا دیتے کہ چوتھی میٹنگ سے پہلے مطالبات پورے ہونے ہیں تو اسے اعلامیے میں شامل کر لیا جاتا۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر کے مطالبات پر جواب ہم نے 28 تاریخ کو دینے تھے، ہم نے 6 ہفتے ان کی ڈیمانڈز کا انتظار کیا، اپوزیشن کے جواب دینے کے لیے7 دن مانگے تھے۔
سیاسی جماعتوں کے آپس میں رابطے اور مذاکرات جمہوریت کی روح ہیں، وزیراعظم
اُنہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے 23 تاریخ کو مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا، مذاکرات کو ختم کرنے کے لیے مختلف بہانے بنائے کیونکہ وہ مذاکرات ختم کرنا چاہتے تھے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ مذاکرات کا عمل عملاً ختم ہو چکا ہے لیکن کمیٹی قائم ہے اور 31 جنوری تک کمیٹی قائم رہے گی اس دوران اگر اپوزیشن مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، ہمارا حتمی جواب تیار ہے، کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے تو جواب پیش کریں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کچھ اور ترجیحات ہوں گی اس لیے انہوں نے مذاکرات کا جو عمل شروع کیا خود ہی سبوتاژ کر دیا۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اپوزیشن نے وزیرِ اعظم پر تنقید کی، فوج پر تنقید کی، جمہوری عمل کی بے توقیری کی گئی اس لیے ہم نہ انتظار کریں گے اور نہ ہی کوئی پیغام لے کر جائیں گے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ نظرِ ثانی کریں گے تو ہم غور کریں گے باقی مذاکراتی کمیٹی وزیرِ اعظم ہی تحلیل کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی عرفان صدیقی نے ا نہوں نے کریں گے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔