ایل پی جی باؤزر دھماکے؛ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت نوٹس، چئیرمین اوگرا ذاتی حیثیت میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں غیر قانونی ایل پی جی باؤزر میں دھماکوں کے واقعات پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے چئیرمین اوگرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
کیبنٹ سیکرٹریٹ کمیٹی نے اوگرا سمیت تمام متعلقہ اداروں سے جواب بھی طلب کر لیا۔
نوٹس میں کہا ہے کہ غیر قانونی ایل پی جی باؤزر میں دھماکوں سے ملتان میں قیمتی جانوں کا ضیاء ہوا، دھماکوں کے باعث 6 ہلاکتیں اور 38 افراد زخمی ہوئے، باؤزر پھٹنے سے گھروں سمیت متعدد گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچا۔
مزید پڑھیں؛ ملتان، گیس ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا، 6 افراد جاں بحق، 39 زخمی
اوگرا کی جانب سے غیر قانونی باؤزر کی روک تھام سے متعلق اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ تین روز کے دوران مختلف شہروں میں ایل پی جی باؤزر پھٹنے سے دھماکے ہوئے تھے۔ باؤزر پھٹنے کا پہلا واقع ملتان جبکہ دوسرا ڈیرہ غازی خان میں ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایل پی جی باؤزر
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔