مقبوضہ کشمیر کے عوام مجوزہ وقف ترمیمی بل کو کبھی قبول نہیں کریں گے، مفتی ناصر الاسلام
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
سرینگر سے جاری ایک بیان میں مفتی اعظم اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ ہماری خودمختاری پر حملہ اور آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مفتی اعظم اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے چیئرمین مفتی ناصر الاسلام نے مجوزہ وقف ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق مفتی ناصرالاسلام نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بل آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 30 کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے اقلیتوں کے حقوق کو خطرہ لاحق ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ ناصر الاسلام نے کہا کہ یہ ہماری خودمختاری پر حملہ اور آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو وقف املاک میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ امتیازی فیصلہ ہے جس سے اقلیتوں کے حقوق پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ مفتی ناصرالاسلام نے کہا کہ وقف کونسلوں اور ریاستی وقف بورڈز میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت سے ہمارے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ وقف ترمیمی بل کی شدید مخالفت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔