ایس ای سی پی کا ایف آئی اے سے اندرونی تجارت کے تمام مقدمات کی تفصیلات شیئر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ساتھ اندرونی تجارت اور مارکیٹ ہیرا پھیری کے تمام مقدمات کی تفصیلات شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور مجرمانہ شکایات متعلقہ عدالتوں میں دائر کی گئی ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ فیصلہ ایف آئی اے کی جانب سے اندرونی تجارت اور مارکیٹ بدعنوانی سے متعلق تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کرنے کے جواب میں کیا گیا ہے تاکہ اے ایم ایل ایکٹ 2010 کے تحت متوازی تحقیقات کی جا سکیں۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مقدمات کی حوالگی ان کمپنیوں کو الزام نہیں دیتی جن کے حصص میں ہیرا پھیری کی گئی یا جن بروکریج ہاؤسز کے ذریعے تجارت کی گئی بلکہ یہ صرف ان افراد کی طرف اشارہ کرتی ہے جو سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے تحت اندرونی تجارت اور مارکیٹ ہیرا پھیری میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ایس ای سی پی اپنے مینڈیٹ کے مطابق اندرونی تجارت اور مارکیٹ ہیرا پھیری کے مقدمات کی تحقیقات میں سرگرم رہا ہے اور اس کے نتیجے میں سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے تحت عدالت میں مجرمانہ شکایات دائر کر رہا ہے۔
ایف آئی اے، منی لانڈرنگ کے پہلو کی تحقیقات کرنے کا مینڈیٹ رکھتی ہے جو کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 (اے ایم ایل ایکٹ 2010) کے تحت جرم ہیں اور اندرونی تجارت اور مارکیٹ ہیرا پھیری ایسے جرائم میں شامل ہیں۔
اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ مقدمات کے متعلقہ ریکارڈ عوامی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے اور کسی بھی اتھارٹی کی جانب سے عدالت میں درخواست دینے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس کے مطابق ان تمام 27 مقدمات کی فہرست ایف آئی اے کے ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ (حوالہ) قواعد 2021 کے تحت شیئر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس ای سی پی ایف آئی اے مقدمات کی کی گئی کے تحت
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔