ہزاروں سرکاری ملازمین کو نکالنے کی تیاری،فہرست سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں بھرتی ہونے والے 9 ہزار 762 ملازمین کی فہرست سامنے آگئی، جنہیں سروس سے فارغ کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں ہونے والی بھرتیوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ نگراں حکومت دورمیں 9ہزار 762 بھرتیاں ہوئیں۔ بھرتیاں 23 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 تک کی گئیں۔ نگراں دورمیں سب سے زیادہ 4ہزار19بھرتیاں پولیس میں ، محکمہ بلدیات 192، محکمہ جیل خانہ جات میں 159بھرتیاں کی گئیں۔محکمہ اعلی تعلیم 702، محکمہ صحت میں 693 افراد اور محکمہ ایلمنٹری وسیکنڈری ایجوکیشن میں2 ہزار323 افراد بھرتی کئے گئے جبکہ محکمہ محنت،محکمہ داخلہ و دیگر اداروں میں بھی بھرتیاں کی گئیں۔
یاد رہے کے پی اسمبلی میں خیبرپختونخوا ملازمین 2025 بل منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت نگراں دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو سروس سے فارغ کیا جائیگا۔ بل کا اطلاق 22 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 کی بھرتیوں پر ہو گا تاہم سن اور اقلیتی کوٹہ، کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کو استثنی حاصل ہو گا۔ملازمین کو نکالنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائیگی، 7 رکنی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کریں گے اور تمام ادارے نگراں دور کی بھرتیوں پر 30 دن میں رپورٹ مرتب کریں گے۔
مارچ 2023 سے 31 دسمبر 2024 تک کس کس کو تحائف ملے، توشہ خانہ ریکارڈ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر