کانگو میں جاری شدید لڑائی کے نتیجے میں 700 افراد کی ہلاکت، سیکڑوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT
گوما: جمہوریہ کانگو کے شمالی صوبے کے دارالحکومت گوما میں جاری شدید لڑائی کے نتیجے میں اب تک 700 افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔
عالمی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان نے جمعہ کو بتایا کہ جمہوری جمہوریہ کانگو کے شمالی کیوو صوبے کے دارالحکومت گوما میں جاری شدید لڑائی میں اب تک 700 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔
روانڈا کے حمایت یافتہ مسلح گروپ نے ملک کے مشرق کے سب سے بڑے شہر گوما پر قبضہ کر لیا ہے، اور رضاکاروں اور جدوجہد کرنے والی کانگولیس فوج کی جانب سے ان کو شکست دینے کی کوشش کے طور پر جنوب کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے بتایا کہ 700 افراد ہلاک اور2,800 افراد زخمی ہوئے ہیں جو عالمی ادارے صحت کی سہولیات میں زیرعلاج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔