واٹس ایپ نے اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی مہم پکڑ لی، قانونی کارروائی کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
سوشل چیٹ میسجنگ ایپ ’واٹس ایپ‘ نے حال ہی میں اسرائیلی کمپنی کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی مہم کو روک دیا ہے، اس جاسوسی مہم کے دوران 90 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر صحافی اور سول سوسائٹی کے کارکن شامل ہیں۔
چیٹ میسجنگ ایپ نے اسرائیلی کمپنی ’پیراگون سلوشنز‘ کی جانب سے سائبر حملوں اور جاسوسی کا فوری سراغ لگاتے ہوئے اس کے آپریشن کو روک دیا۔
واٹس ایپ حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ پہلے ہی متاثرین سے رابطہ کر چکے ہیں اور مکمل اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان صارفین کو نہ صرف نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ ان کی ڈیوائسز کو بھی ہیک کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے متاثرہ صارفین کو خبردار کرنے کے علاوہ پیراگون سلوشنز کو اس سلسلے کو فوری بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور واٹس ایپ اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے۔
پیراگون سلوشنز خود کو ایک ’اخلاقی‘ سائبر دفاعی آپریشن کے طور پر متعارف کراتی ہے اور بدنام زمانہ این ایس او گروپ کے براہ راست حریف کے طور پر بھی جانی جاتی ہے، حال ہی میں اس کی ملکیت اور کلائنٹ تعلقات میں اہم تبدیلیاں بھی لائی گئی ہیں۔
فلوریڈا میں قائم اے ای انڈسٹریل پارٹنرز کی جانب سے گزشتہ سال پیراگون میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ایک بڑا سرکاری معاہدہ ہوا۔ کمپنی نے ستمبر 2024 میں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ساتھ 2 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔
موجودہ صورت حال 2019 میں ہونے والی قانونی جنگ سے مماثلت رکھتی ہے جب واٹس ایپ نے این ایس او گروپ کو بڑے پیمانے پر جاسوسی کی مہم پر عدالت میں گھسیٹا تھا جس میں سرکاری عہدیداروں، کارکنوں اور صحافیوں سمیت 1،400 صارفین کی جاسوسی کی گئی تھی۔ اس کیس کا اختتام این ایس او گروپ کے خلاف ایک فیصلے کے ساتھ ہوا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ جاسوسی سائبر حملہ سول سوسائٹی عہدیدار فلوریڈا کارکن مسیجنگ ایپ واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ سائبر حملہ سول سوسائٹی کارکن مسیجنگ ایپ واٹس ایپ ایس او گروپ کی جانب سے واٹس ایپ
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ