سوشل چیٹ میسجنگ ایپ ’واٹس ایپ‘ نے حال ہی میں اسرائیلی کمپنی کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی مہم کو روک دیا ہے، اس جاسوسی مہم کے دوران 90 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر صحافی اور سول سوسائٹی کے کارکن شامل ہیں۔

چیٹ میسجنگ ایپ نے اسرائیلی کمپنی ’پیراگون سلوشنز‘ کی جانب سے سائبر حملوں اور جاسوسی کا فوری سراغ لگاتے ہوئے اس کے آپریشن کو روک دیا۔

واٹس ایپ حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ پہلے ہی متاثرین سے رابطہ کر چکے ہیں اور  مکمل اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان صارفین کو نہ صرف نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ ان کی ڈیوائسز کو بھی ہیک کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے متاثرہ صارفین کو خبردار کرنے کے علاوہ پیراگون سلوشنز کو اس سلسلے کو فوری بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور واٹس ایپ اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے۔

پیراگون سلوشنز خود کو ایک ’اخلاقی‘ سائبر دفاعی آپریشن کے طور پر متعارف کراتی ہے اور بدنام زمانہ این ایس او گروپ کے براہ راست حریف کے طور پر بھی جانی جاتی ہے،  حال ہی میں اس کی ملکیت اور کلائنٹ تعلقات میں اہم تبدیلیاں بھی لائی گئی ہیں۔

فلوریڈا میں قائم اے ای انڈسٹریل پارٹنرز کی جانب سے گزشتہ سال پیراگون میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ایک بڑا سرکاری معاہدہ ہوا۔ کمپنی نے ستمبر 2024 میں امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ساتھ 2 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔

موجودہ صورت حال 2019 میں ہونے والی قانونی جنگ سے مماثلت رکھتی ہے جب واٹس ایپ نے این ایس او گروپ کو بڑے پیمانے پر جاسوسی کی مہم پر عدالت میں گھسیٹا تھا جس میں سرکاری عہدیداروں، کارکنوں اور صحافیوں سمیت 1،400 صارفین کی جاسوسی کی گئی تھی۔ اس کیس کا اختتام این ایس او گروپ کے خلاف ایک فیصلے کے ساتھ ہوا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آپریشن اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ جاسوسی سائبر حملہ سول سوسائٹی عہدیدار فلوریڈا کارکن مسیجنگ ایپ واٹس ایپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ سائبر حملہ سول سوسائٹی کارکن مسیجنگ ایپ واٹس ایپ ایس او گروپ کی جانب سے واٹس ایپ

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا