چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کیخلاف میچ کتنا اہم، بھارتی ہیڈ کوچ اور کپتان کیا کہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 23 فروری کو ہونے والے میچ سے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے چیمپیئنز ٹرافی میں ہونے والے پاک بھارت میچ کو زیادہ اہم قرار نہیں دیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایوارڈز کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دبئی میں بھارتی ٹیم کا مشن چیمپیئنز ٹرافی جیتنا ہے، صرف ایک میچ جیتنا مشن نہیں۔
گوتم گمبھیر نے کہا کہ ہم چیمپئنز ٹرافی میں یہ سوچ کر نہیں جا رہے کہ 23 فروری کو سب سے اہم میچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لیے پانچوں میچز بہت اہم ہیں۔
بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کھیلتے ہیں تو جذبات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں، جذبات اپنی جگہ لیکن مقابلہ ہمیشہ وہیں رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے مقابلے میں چیمپیئنز ٹرافی مختلف چیلنج ہے، جس میں ہر میچ ہی اہم ہوتا ہے۔
گوتم گمبھیر نے مزید کہا کہ کپتان روہت شرما اور ویرات کوہلی ڈریسنگ روم اور بھارتی کرکٹ کی ویلیو میں اضافہ کریں گے اور دونوں کا چیمپیئنز ٹرافی میں بڑا کردار ہوگا۔
بھارتی کپتان روہت شرما نے چیمپئنزٹرافی میں پاکستان بھارت میچ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 سے 3 سال کے دوران پاک بھارت میچز پر بہت بات کی، اس میچ سے متعلق ہم کوئی خاص ذکرنہیں کریں گے، ہمیں صرف اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنا ہے۔
مزیدپڑھیں:فہیم اشرف اور خوشدل شاہ ٹیم میں کیسے آگئے، سمجھ سے باہر ہے، وسیم اکرم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیمپیئنز ٹرافی گوتم گمبھیر نے بھارتی کرکٹ ٹرافی میں نے کہا کہ ہیڈ کوچ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔