Jasarat News:
2026-07-24@15:10:31 GMT

جامعات میں ایم اے پاس بیوروکریٹ وی سی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT

جامعات میں ایم اے پاس بیوروکریٹ وی سی

سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے ترمیمی قانون کی منظوری پیپلزپارٹی کی تعلیم دشمنی کا تسلسل ہے یہ خاص طور پر شہر کراچی کی جامعات کے لیے تشویشناک ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کی موت ہے۔ یہ قدم نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کرے گا بلکہ جامعات کی خود مختاری پر بھی کاری ضرب لگائے گا۔ اس قانون کے ذریعے سندھ کی جامعات میں بیوروکریٹس کو وائس چانسلر مقرر کرنے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے، جو کہ ایک غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف اساتذہ اور طلبہ نے احتجاج کیا ہے بلکہ وفاقی ادارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے بھی سندھ کی نئی پالیسی کو ’’جامعات کے لیے تباہ کن‘‘ قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایچ ای سی کے موقف کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نے مشاورت کے بغیر میڈیا کو مطلع کیا، جبکہ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ترمیمات انتظامی بدعنوانیوں اور مالی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، سندھ حکومت کی جلد بازی اور قانون سازی کا طریقہ کار خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ قانون بنا کسی مشاورت اور مجلس ِ قائمہ میں بھیجے بغیر منظور کیا گیا، جو کہ جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ سندھ بھر کی جامعات کے اساتذہ اس وقت سراپا احتجاج ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت بیوروکریٹس کو وائس چانسلر مقرر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی اور فپواسا کے مطابق، یہ ترمیمی قانون جامعات کی خود مختاری پر براہ راست حملہ ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ احتجاجی تحریک جاری رہنے کے ساتھ ساتھ، اساتذہ کی یونینز نے عدالتی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ دوسری جانب، وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ وہ اس بحران کو ’’انتظامی طور پر‘‘ حل کر لیں گے۔ تاہم، صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ تعلیمی اداروں کی خودمختاری اور سیاسی مداخلت کا یہ تنازع جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ اس متنازع قانون کو ختم کرے اور جامعات کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ، ماہرین تعلیم اور طلبہ کی رائے کو اہمیت دے۔ بیوروکریسی کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنا نہ صرف تعلیمی عمل کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو سندھ کی جامعات علمی زوال اور انتظامی بحران اور کرپشن کا مزید شکار ہو جائیں گی، جس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرے جو واقعی تعلیمی بہتری اور اداروں کی ترقی کے ضامن ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی جامعات کے لیے کی خود

پڑھیں:

اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب

برطانوی ہائی کمیشن نے گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں  کے آغاز کی مناسبت سے اسلام آباد میں ایک خصوصی استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں کھیل، حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور دولتِ مشترکہ کے سابق اسکالرز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

گلاسگو میں 23 جولائی سے 2 اگست 2026 تک منعقد ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں 74 رکن ممالک اور خطوں کے تقریباً 3 ہزار کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلوں میں 10 مختلف کھیل شامل ہیں، جن میں 6 پیرا اسپورٹس بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دولت مشترکہ میں خدمات سرانجام دینے والی بلی کو نئی ذمہ داریاں مل گئیں

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کھیل صرف تمغے جیتنے کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ مختلف قوموں کو قریب لانے، صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور کھیلوں کے ذریعے معاشروں کو متحد کرنے کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ شاندار رہی ہے اور پاکستانی کھلاڑی آج بھی نوجوان نسل کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ انہوں نے برطانیہ، پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے درمیان مضبوط تعلقات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

تقریب میں دولتِ مشترکہ اسکالرشپس اور فیلوشپس پروگرام کو بھی اجاگر کیا گیا، جس کے ذریعے گزشتہ 60 برس سے مختلف رکن ممالک کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

استقبالیے سے قبل برطانوی ہائی کمیشن نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان نوجوان رہنماؤں کو بھی اعزازات سے نوازا، جنہیں “ملکہ الزبتھ دوم کامن ویلتھ ٹرسٹ 100 ینگ لیڈرز ایوارڈز” کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اعزاز حاصل کرنے والوں میں پاک جی پی ٹی  کی شریک بانی فرح گل رہوجہ شامل ہیں، جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ محروم طبقات کی مدد کر رہی ہیں۔ امید فاؤنڈیشن کے بانی حسن اشرف کو محنت کش بچوں اور پسماندہ طبقات کے لیے مفت تعلیم کے فروغ پر سراہا گیا، جبکہ گرلز یونائیٹڈ فار ہیومن رائٹس کی بانی ہادیقہ بشیر کو کم عمری کی شادی کے خاتمے، صنفی تشدد کے خلاف جدوجہد اور بچیوں کی تعلیم کے فروغ پر اعزاز دیا گیا۔ اسی طرح آئی ایس وائی ڈی  کے بانی جوشوا دلاور کو نوجوانوں کی شمولیت، صحت میں مساوات، صنفی برابری اور سماعت سے محروم نوجوانوں کی تربیت کے شعبے میں خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق گلاسگو 2026، برطانیہ کی جانب سے 2014 میں گلاسگو اور 2022 میں برمنگھم میں کامیاب دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ اس تقریب کا مقصد کھیل، تعلیم اور نوجوان قیادت کے ذریعے دولتِ مشترکہ ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد برٹش ہائی کمیشن پاکستان دولت مشترکہ

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن