اسلام آباد میں پاکستان کا سب سے بڑا انڈر پاس مکمل ،جناح اسکوائر کا افتتاح 4 فروری کو ہوگا، تخمینے سے کم لاگت اور 72 دنوں میں کام مکمل ،تفصیلات سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
اسلام آباد میں پاکستان کا سب سے بڑا انڈر پاس مکمل ،جناح اسکوائر کا افتتاح 4 فروری کو ہوگا، تخمینے سے کم لاگت اور 72 دنوں میں کام مکمل ،تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (ایڈیٹر انوسٹی گیشن ) وفاقی دارلحکومت میں پاکستان کا سب سے بڑا انڈر پاس مکمل کرلیا گیا ،، جناح اسکوائر میں چار رویہ لائینز پر محیط انڈر پاس کی چوڑائی 122 فٹ ہے جبکہ ایک انڈر پاس دو رویہ ہے ،، جناح اسکوائر انڈر پاس کی کل لاگت چار ارب تھی تاہم باوثوق ذرائع کے مطابق تین ارب نوے کروڑ میں منصوبہ مکمل کیا گیا ہے ،، جناح اسکوائر منصوبے کو 72 دنوں میں مکمل کیا گیا ہے جناح اسکوائر منصوبے کا افتتاح وزیراعظم پاکستان چار فروری کو کریں گے ،،
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جناح اسکوائر انڈر پاس
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔