سائنسدانوں نے معدے اور دماغ کے درمیان حیران کن تعلق دریافت کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
سائنسدانوں نے معدے اور دماغ کے درمیان موجود ایک ایسا تعلق دریافت کیا ہے جو مختلف دماغی امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج کارک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ معدے اور دماغ کے درمیان تعلق موجود ہے جو ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق ہماری آنتوں میں موجود کھربوں بیکٹیریا ہماری دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانی آنتوں میں موجود کھربوں بیکٹیریا، فنگس اور دیگر ننھے جاندار نہ صرف ہمارے ہاضمے اور مدافعتی نظام کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ ہمارے دماغی صحت اور سوچنے کے انداز پر بھی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل محقق جان کرائن نے بتایا کہ انسانی جسم میں موجود یہ ننھے جاندار غذائی اجزا کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا یا دیگر جاندار دماغی صحت اور رویوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ بیکٹیریا دماغی امراض جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور schizophrenia کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔محققین کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا، پروبائیوٹیکس کے زیادہ استعمال اور اچھی نیند ہمارے جسم کے اندر صحت کے لیے مفید بیکٹیریا اور دیگر جانداروں کی تعداد میں توازن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنے والے عناصر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔