کوٹری ریجن دفاتر میں غریب محنت کشوں سے زیادتی قابل مذمت ہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سلور کاٹن ملز ورکرز یونین( سی پی اے) حیدرآباد کے صدر سید عابد حسین بخاری، سینئر نائب صدر غلام رسول اور جنرل سیکرٹری اظہر محمدسمیت دیگر نے ای او بی آئی حیدر آباد اور کوٹری ریجن آفسوں میں ایجنٹ اور بروکر مافیا کی جانب سے غریب و ضعیف محنت کشوں، یتیم بچوں اور بیوائوں سے لوٹ مار کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل ای او بی آئی سے اس کے تدراک کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنمائوں نے کہا کہ ای او بی آئی حیدرآباد ریجن اور کوٹری ریجن میں ایجنٹ و بروکرز سے رابطہ کیے بغیر پنشن حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے جبکہ قانون کے مطابق ریجن کو 45دن کے اندر کلیم یا فیصلہ کرنا ہوتا ہے لیکن ریجن ہیڈ اور ایجنٹ کے منہ میں جب تک رشوت نہ ڈالی جائے کلیم کی فائل پر کوئی کارروائی نہیں کرتا اور جو بھی مزدور ایجنٹ اور برو کر کا مطالبہ پورا نہ کرے اس کے کلیم کو بھی قانونی جواز کے بغیر بے بنیاد الزامات عائد کر کے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ایجنٹ اور بروکرز کو ریجنل ہیڈ اور عملے کا مکمل اعتماد اور سرپرستی حاصل ہے جس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں اور ہم یہ تمام ثبوت ڈائریکٹر جنرل چیئرمین ای او بی آئی کو جلد فراہم کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: او بی ا ئی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔