پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کینسر سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کینسر سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔
اس دن کو منانے کا مقصد اس موذی مرض سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا ہے، یہ پیچیدہ بیماری کئی عناصر کی وجہ سے لاحق ہو سکتی ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق کینسر دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مرض بن چکا ہے۔
کینسر 36 اقسام پر مشتمل ایک موذی اور پیچیدہ مرض ہے جو عمر میں اضافے کے ساتھ تمباکو و شراب نوشی، موٹاپے اور فضائی آلودگی عام ہونے کو اس کا بنیادی سبب بتایا گیا ہے، پاکستان میں ہر سال کینسر کے ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد مریض سامنے آتے ہیں، ان میں سے 70 فیصد مریض بروقت علاج نہ ہونے سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے ، لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا
مردوں میں منہ، جگر، بڑی آنت، پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کینسر کے کیسز عام پائے جاتے ہیں جبکہ خواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ پایا جا رہا ہے۔
اووری، منہ، رحم کے نچلے حصے اور بڑی آنت کا کینسر بھی سامنے آ رہا ہے جبکہ بچوں میں خون کا سرطان اور نوعمر بچوں میں ہڈیوں کا کینسر زیادہ دیکھا گیا ہے، تمباکو نوشی، پان، گٹکا، چھالیہ، نسوار، جنک فوڈ اور ورزش نہ کرنے سے بھی کینسر کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ بارکے عہدیداروں نے اسلام آباد میں دیگر صوبوں سے ججز کے تبادلے کو مسترد کر دیا
آنکالوجسٹ پروفیسر عباس کھوکھر کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے سے ملک میں سالانہ ایک لاکھ 20 ہزار افراد کینسر کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے