اسلام آباد: گاڑی سمیت بہنے والے کرنل (ر) اسحاق کی نعش مل گئی، بیٹی کی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں آنے والے سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی کی نعش تین روز بعد دریائے سواں سے مل گئی جبکہ بیٹی کی تلاش تاحال جاری ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل اسحاق اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے کہ شدید بارش کے باعث ان کی گاڑی خراب ہوگئی اور اسی دوران پانی کا ریلا آ گیا جس میں دونوں باپ بیٹی گاڑی سمیت بہہ گئے تھے۔
میٹرک امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم نے بڑا قدم اٹھالیا
گزشتہ دو روز سے گاڑی سمیت لاپتہ ہونے والے باپ اور بیٹی کی تلاش کا کام جاری تھا اور گزشتہ روز نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے برساتی نالے میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا تھا جس کے بعد اب دریائے سواں کے داخلی و خارجی راستوں پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو ٹیموں کو گزشتہ روز گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر ملے تھے تاہم گاڑی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا، اب ریسکیو ٹیموں کو دریائے سواں سے کرنل ریٹائرڈ اسحاق قاضی کی بیٹی نعش مل گئی ہے جبکہ بیٹی کی تلاش تاحال جاری ہے۔
نادر آباد:2 مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
دوسری طرف بابو سر ٹاپ پر سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خاتون ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے سیلاب میں لاپتا ہونے والے 3 سالہ بیٹے کی نعش 3 روز بعد مل گئی۔
ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے بیٹے عبد الہادی کی نعش کو مقامی افراد نے بابوسر کے قریب ڈاسر کے مقام پر دیکھا اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا، گلگت بلتستان سکاؤٹس نے 3 سالہ عبد الہادی کی نعش نالےسے نکال کر چلاس ہسپتال منتقل کر دی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کے لیے جانے والی فیملی سکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی، ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جب کہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا۔
علیزے شاہ اور اداکارہ منسا ملک سوشل میڈیا پر آمنے سامنے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مشعال فاطمہ بیٹی کی تلاش گاڑی سمیت کی نعش
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔