راولپنڈی: بارش میں بہنے والی گاڑی کا بونٹ اور دروازہ مل گیا، باپ بیٹی کی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے منگل کی صبح برساتی نالہ میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے باپ بیٹی اور انکی گاڑی کو تمام کوششوں کے باوجود جمعرات کو تیسرے روز بھی تلاش نہیں کیا جاسکا مگر انکی گاڑی کا دروازہ اور بونٹ سواں پل کی نیچے سے ریسکیو 1122کو مل گیا ہے آپریشن آج بھی جاری رہے گا۔
فیز فائیو کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے برساتی نالہ جہاں منگل کی صبح پانی کا تیز ریلا ایک گاڑی کو بہا لیا گیا تھا گاڑی میں موجود باپ بیٹی اس دوران ہاتھ ہلا ہلا کر مدد کے لیے پکارتے رہے مگر پانی کا زور دار ریلا انہیں بہا لے گیا جہنیں تلاش کرنے کے لئے فوری طور پر شروع کیا گیا.
آپریشن جس میں پاک فوج، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی ٹیموں نے آپریشن کا اغاز کیا تھا منگل کی صبح سے بدھ کی رات گے تک جاری رہنے والا آپریشن نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکا جس پر اج۔جمعرات کی صبح تیسرے روز بدقسمت باپ بیٹی اور انکی گاڑی کو تلاش کرنے کا آپریشن ایک مرتبہ پھر شروع کیا گیا ۔
سواں پل کے نیچے سے گاڑی کا دروازہ اور بونٹ رییسکیو 1122کو مل گیا ہے کئی مقامات پر کھدائی کی گئی، گہرائی میں گاڑی کو تلاش کیا جارہا یے، دریائے سواں کے مختلف مقامات پر گاڑی اور اس میں موجود باپ بیٹی کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو آپریشن میں شامل ذرائع کا کہنا ہے کہ آج پانی کی سطح کافی تک حد نارمل ہو چکی ہے، اس لیے آج امید کی جاسکتی ہے کہ دریائے سواں کے کسی حصے میں گاڑی کو تلاش کرلیا جائےگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: باپ بیٹی گاڑی کو کی صبح
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔