Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:32:02 GMT

کینیڈا نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا، ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT

کینیڈا نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خودمختار دولت فنڈ قائم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے اور امریکی محکمہ خزانہ کو فنڈ بنانے کا کہہ دیا۔

اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سےاچھی بات ہوئی، کینیڈا نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا، ہمیں کینیڈین زراعت، کاروں اور لکڑی کی ضرورت نہیں۔

ٹرمپ نے بتایا کہ میکسیکو سے ٹیکس کے معاملات ابھی طے نہیں ہوئے، میکسیکو سے ابھی بڑی بات چیت ہونی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ چین سے بھی اگلے 24 گھنٹوں میں بات چیت کی جاسکتی ہے، چین طویل عرصے تک پاناما کینال میں شریک نہیں رہ سکتا۔

پاناما کینال پر چین سے نمٹا جائےگا، ہم ڈیل نہ کرسکے تو چین کے ٹیرف اوپر جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یو ایس ایڈ ایک اچھا تصور ہے لیکن اس میں بائیں بازو کی انتہا پسندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزید ممالک پر جوابی ٹیکس لگانے کا آئیڈیا اچھا لگا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم یوکرین کو بتا رہےہیں کہ ان کے پاس قیمتی زمینیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یوکرین وہ زمینیں ہمیں دے دے۔

انہوں نے کہا کہ ایلون مسک سے باہمی دلچسپی کے معاملات پر اختلافات نہیں، ایلون مسک ہماری رضامندی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے نہ کریں گے، مسک کو تنازعات والی جگہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

غزہ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میرے پاس غزہ جنگ بندی برقرار رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل