ٹاؤن میونسپل کارپوریشن جناح کے دفتر میں یوم کشمیر کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن جناح کے مرکزی دفتر میں یوم کشمیر کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں جناح ٹاؤن کے زیر انتظام اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے اساتذہ اکرام اور ڈائریکٹر ایجوکیشن شیر علی کے ساتھ شرکت کی جبکہ چیئرمین رضوان عبد السمیع بطور مہمان خصوصی تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسولؐ مقبول سے کیا گیا اور اسکول کے طلبہ نے یوم کشمیر کی مناسبت سے تقاریر اور ٹیبلو پیش کیے۔ اس موقع پر چیئرمین رضوان عبد السمیع نے طلبہ سے گفتگو میں کہا کہ 75 سال سے کشمیر کے عوام بھارت کے غاصبانہ قبضے میں سانس لے رہے ہیں ان کے شب و روزاس خوف میں گزر رہے ہیں کے اگلی صبح نہ جانے کس گھر پر چھاپا پڑے اور انکا ہنستا بستا گھر اجڑ جائے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ہم سب کو اس کی قدر کرنی چاہیے، آزادی کی قدر ہمیں کشمیر، شام، فلسطین اور برما کے مسلمانون سے پوچھنی چاہیے۔ آج کی تقریب سے ہم وہاں کے مسلمانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری سرحدیں ضرور بند ہیں۔
لیکن ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں ڈاکٹر کی ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج، معاملہ کیا ہے؟
کراچی کے تھانہ صدر میں ڈاکٹر امتیاز احمد کی جانب سے ڈاکٹر عمر سلطان، ڈاکٹر شاہد علی اعوان اور ڈاکٹر وقار عمرانی امیت 30 سے 35 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طلبا کے لیے ڈریس کوڈ کا اعلان کیوں کیا؟ جامعہ کراچی نے وضاحت کردی
درج ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 24 اپریل کو وہ جناح اسپتال کے او پی ڈی کمپلیکس میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے کہ اس دوران مذکورہ ڈاکٹروں سمیت 30 سے 35 افراد او پی ڈی میں داخل ہوئے اور او پی ڈی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر امتیاز احمد نے بتایا کہ ہم نے جواب دیا کہ ہم او پی ڈی بند نہیں کریں گے جس کے بعد یہ افراد مشتعل ہوئے اور ہم پر تشدد کیا جبکہ او پی ڈی میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
درج مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ساری کارروائی ڈاکٹر یاسین عمرانی کے کہنے پر ہوئی ہے لہٰذا ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
جناح پوسٹ میڈیکل سینٹر کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر محمد علی کے مطابق مریضوں کو دیکھنے والے ینگ ڈاکٹرز پر ہونے والا تشدد قابل مذمت ہے۔
ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق یہ حملہ ایک انتظامی پوسٹ کے لیے کرایا گیا ہے جس میں باہر کے لوگوں کا تعاون حاصل کیا گیا۔
مزید پڑھیے: چھوٹی سی عمر میں جج، ڈاکٹر اور انجینیئر بننے والی 3 لڑکیوں کی کہانی
ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق جناح اسپتال کے سیکیوریٹی انچارج ڈپٹی ڈائریکٹر یاسین عمرانی کو نااہلی کی بنیاد پر ٹرانسفر کیا گیا جس کے بعد ان کی انتظامی پوسٹ کو بچانے کے لیے مریضوں کو علاج سے محروم کرنے کے لیے ایک ناکام کوشش کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ اس وقت سندھ کے کسی بھی اسپتال میں سروس بند نہیں ہے اور تمام اسپتالوں میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپی ڈی کمپلکس جناح اسپتال ڈاکٹر بمقابلہ ڈاکٹر