یوم یکجہتی کشمیر پر صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
علی ساہی: یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صوبہ پنجاب میں سکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
لاہور سمیت صوبہ بھر میں 11 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق، 175 سپروائزری افسران، 240 انسپکٹرز، 1550 اپر سب آرڈینیٹس اور 300 خواتین اہلکاروں سمیت 9 ہزار کانسٹیبلز سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں 450 سے زائد پروگراموں کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔
سوئیڈن ؛ سکول میں فائرنگ،10 افراد ہلاک
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر 346 ریلیز، 84 سیمینار اور 23 دیگر تقریبات منعقد کی جائیں گی جن کے لیے حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ خاص طور پر یکجہتی کشمیر کی ریلیوں اور اے کیٹگری پروگراموں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ "شرپسند اور ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے" اور یوم یکجہتی کشمیر کے دوران شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
لاہور میں بارش؟ خدا آپ کو صبر عطا کرے!
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔