City 42:
2026-07-24@05:26:53 GMT

یوم یکجہتی کشمیر پر صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT

علی ساہی: یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صوبہ پنجاب میں سکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں 11 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق، 175 سپروائزری افسران، 240 انسپکٹرز، 1550 اپر سب آرڈینیٹس اور 300 خواتین اہلکاروں سمیت 9 ہزار کانسٹیبلز سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔ صوبہ بھر میں 450 سے زائد پروگراموں کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

سوئیڈن ؛ سکول میں فائرنگ،10 افراد ہلاک

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر 346 ریلیز، 84 سیمینار اور 23 دیگر تقریبات منعقد کی جائیں گی جن کے لیے حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ خاص طور پر یکجہتی کشمیر کی ریلیوں اور اے کیٹگری پروگراموں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ "شرپسند اور ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے" اور یوم یکجہتی کشمیر کے دوران شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
 
 
 
 
 
 
 

لاہور میں بارش؟ خدا آپ کو صبر عطا کرے!

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی