غزہ سے فلسطینیوں کی بیدخلی ناقابل قبول اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، جرمن وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
غزہ پر قبضہ کرنے کے امریکی صدر کے بیان پر اپنے ردعمل میں جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی بےدخلی مزید مصائب اور نفرتوں کیطرف لے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ایک طرف کرکے کوئی حل ممکن نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے کے بیان پر جرمنی نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کی طرح غزہ بھی فلسطینیوں کا ہے۔ اس حوالے سے جرمن وزیر خارجہ انالینا بربوک کا کہنا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی بےدخلی ناقابل قبول اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی بےدخلی مزید مصائب اور نفرتوں کی طرف لے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ایک طرف کرکے کوئی حل ممکن نہیں ہوسکتا۔ دریں اثناء جرمن حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر کام جاری رکھیں گے۔ جرمنی امریکی انتظامیہ سے غزہ کے بارے میں بات کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غزہ سے فلسطینیوں کی کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔