خیبرپختونخوا: کرک میں پولیس چوکی پر حملہ، 3 اہلکار شہید، 6 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
پشاور:خیبر پختونخوا ( کے پی کے ) کے ضلع کرک میں شرپسندوں نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ حملہ تھانہ خرم تحصیل بانڈہ داد شاہ کی چوکی پر ہوا، جہاں مسلح افراد نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران حملہ آور فرار ہوگئے، ڈی پی او کرک نے بتایا کہ حملے میں شہید ہونے والوں میں ڈرائیور نقیب اور عدنان شامل ہیں۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک اور پولیس اہلکار تیمور حیات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اور انہیں پشاور ریفر کر دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، عینی شاہدین نے بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا، آئی جی پختونخوا ذوالفقار حمید نے موقع پر پہنچ کر تفصیلات معلوم کیں اور مزید احکامات جاری کیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹانک میں دہشت گردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 12 خوارج ہلاک، 15 جوان شہید
راولپنڈی:ٹانک میں دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر باردو سے بھری گاڑی ٹکرادی، نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے 15 اہلکار شہید ہوگئے، جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ 'فتنہ الخوارج' کے دہشت گردوں نے 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب ضلع ٹانک میں سیکیورٹی اہلکاروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بزدلانہ حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کے سیکیورٹی حصار کو توڑنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز کے مستعد اور فوری ردعمل نے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا، سیکیورٹی اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے خوارج کو نشانہ بنایا اور بارہ خوارج کو ہلاک کر دیئے۔
اسی دوران حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، دھماکے کی شدت سے چیک پوسٹ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں وطن کے پندرہ بہادر سپوت شہید ہوگئے جن میں فوج کے بارہ جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری عہدیدار شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے میں موجود کسی بھی ممکنہ خارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پرعزم ہیں، بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں ہمارے غیر متزلزل عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔