پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید خان نے کہا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کے کہ 2024 کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی ٹکٹوں کا فیصلہ کس نے کیا۔

نجی چینل سے گفتگو میں رہنما پی ٹی آئی جنید خان سے سوال کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں عاطف خان اور شہرام ترکئی جیسے پی ٹی آئی کے کئی بڑے رہنماؤں نے چاہتے ہوئے بھی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کیوں نہیں لڑے۔ اس کے جواب میں جنید خان نے کہا کہ ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ تمام ناموں کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان مطمئن ہوں گے تو علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ رہیں گے، جنید خان

انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں تھا، ایک ہزار 60 امیدواروں کے ناموں کا وہ اکیلے کیسے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب عمران خان سے جاکر اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ میرے پاس تو کوئی لسٹ آئی ہی نہیں۔

جنید خان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں وہ لسٹ لاکر دی جائے تاکہ پتا چل سکے کہ کس امیدوار کی کس نے سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ بات میرے علاوہ عمر ایوب اور صاحبزادہ حامد رضا کی موجودگی میں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ امیدواروں کی لسٹ کیسے اور کس نے فائنل کی۔

یہ بھی پڑھیں: 8 فروری احتجاج: علی امین گنڈاپور  کی عدم دلچسپی اور جنید اکبر کا جارحانہ انداز

رہنما پی ٹی آئی جنید خان نے بتایا کہ وہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی سے 5 ماہ پہلے ہی الگ ہوگئے تھے اور پارٹی کے کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی کے رکن کے طور پر مجھے جو ذمہ داری دی جاتی تھی وہ میں ادا کرتا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ناراضگی ختم ہونے کا علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بشریٰ بی بی سے 25 نومبر کی رات کو آخری بار ملاقات ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہ لی تو پھر ایسا ہی ہوگا جیسا پہلے ہوا، محسن نقوی کا انتباہ

انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور سے میرا رابطہ نہیں تھا، ان سے زندگی میں صرف ایک بار ہی ملاقات ہوئی، 25 نومبر کو بشریٰ بی بی نے مجھے صرف یہی کہا کہ عمران خان نے ڈی چوک جانے کی ہدایت دی ہے، ہم نے وہیں جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور کے آپس میں رابطے تھے، بیرسٹر گوہر کسی کا پیغام لے کر عمران خان کے پاس جاتے تھے، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، یہ پارٹی پالیسی تھی، بیرسٹر گوہر کی اپنی پالیسی نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حیرت ہے پی ٹی آئی نے عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کرپشن پر آنکھیں بند کر لیں، احسن اقبال

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی پارٹی کے لیے کافی قربانیاں ہیں اور وہ عمران خان کے بھی قریب ہیں، میں نے صرف ایک بار ہی ان کے خلاف ایک ٹویٹ کی تھی، اس کے بعد میں نے یا علی امین گنڈاپور نے ایک دوسرے کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں کی البتہ ہمارا ایک دوسرے سے کوئی رابطہ نہیں رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ شکیل خان کے معاملے میں جو بات میں نے ٹویٹ میں کی وہی بات عاطف خان نے اپنی ٹویٹ میں کہی، ایسا نہیں ہے کہ ہمارا کوئی الگ گروپ تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews الیکشن بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف ٹکٹس جنید خان عمران خان وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن بانی پی ٹی ا ئی پاکستان تحریک انصاف ٹکٹس وزیراعلی علی امین گنڈاپور علی امین گنڈاپور انہوں نے کہا کہ نے بتایا کہ پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا