Jasarat News:
2026-06-03@03:18:02 GMT

بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے الزام پر بھارتی قیادت برہم

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT

بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے الزام پر بھارتی قیادت برہم

طلبہ تحریک کے ذریعے 5 اگست 2024 کو بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے اب تک بھارت نے کسی نہ کسی شکل میں بنگلا دیش کی عبوری حکومت کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ بنگلا دیش کے معاملات میں بھارت کی مداخلت نمایاں ہے۔ شیخ حسینہ واجد کو پناہ دینا بھی بنگلا دیش کو برہم کرنے اور اُس کے معاملات میں مداخلت ہی کے ذیل میں آتا ہے۔

شیخ حسینہ واجد کے حالیہ ریمارکس کے بعد بنگلا دیش میں غیر معمولی ردِعمل دکھائی دیا ہے۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھی اِن ریمارکس پر بھارت کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس پر بھارتی حکومت برہم ہے اور نئی دہلی میں متعین بنگلا دیشی ہائی کمشنر کو وزارتِ خارجہ میں طلب کرکے احتجاج کیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے بنگلا دیشی ہائی کمشنر محمد نورالاسلام کو ایک احتجاجی مراسلا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ بنگلا دیش کی عبوری حکومت کی طرف سے لگایا جانے والا یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے کہ بھارتی قیادت بنگلا دیش کے معاملات میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جایسوال نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ بنگلا دیش کے قائم مقام ہائی کمشنر محمد نورالاسلام کو جمعہ کی شام پانچ بجے وزارتِ خارجہ میں طلب کیا گیا۔ احتجاجی مراسلے میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ بھارتی قیادت بنگلا دیش سے بہتر تعلقات اور وسیع تر اشتراکِ عمل کی خواہاں ہے۔ ایسے میں بنگلا دیشی قیادت کی طرف سے معاملات میں مداخلت کا الزام بے معنی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد نے بھارتی سرزمین پر پناہ ضرور لی ہے مگر یہ الزام بے بنیاد ہے کہ بھارتی قیادت اب بنگلا دیش کے معاملات میں مداخلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کے معاملات میں مداخلت کی ہے نہ کریں گے کیونکہ بنگلا دیش کے معاملات درست کرنا اور جلد از الیکشن کے ذریعے عوام کی نمائندہ حکومت قائم کرنا عبوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ بنگلا دیش میں سیاست بحال ہو، جمہوری عمل جاری رہے اور ایسی نمائندہ حکومت قائم ہو جو عوام کے تمام مسائل حل کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش کی عبوری حکومت شیخ حسینہ واجد بھارتی قیادت کہ بنگلا دیش

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی