بالی ووڈ کے مشہور اداکار رنبیر کپور نے اپنی نئی فیشن اور لائف اسٹائل برانڈ ARKS کی پہلی جھلک پیش کر دی، جو 14 فروری 2025 کو لانچ ہو رہی ہے۔ 

اس برانڈ کے ذریعے رنبیر کپور فیشن انڈسٹری میں قدم رکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں جاری کردہ ایک ویڈیو میں وہ ممبئی کی سڑکوں پر سائیکلنگ کرتے نظر آ رہے ہیں، جہاں وہ شہر کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ 

ان کی اہلیہ عالیہ بھٹ نے بھی اس پروجیکٹ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کپور کے خواب کو سپورٹ کیا۔

ویڈیو میں رنبیر کپور میرین ڈرائیو، باندرہ-ورلی سی لنک اور بینڈ اسٹینڈ پر اپنے والد رشی کپور کے مرئیل کے سامنے نظر آتے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں، "دنیا میں کئی شہروں کا سفر کیا، لیکن ممبئی جیسی توانائی کہیں نہیں ملی۔ یہ شہر مجھے بار بار کوشش کرنے اور کامیاب ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔"

رنبیر کپور نے پہلے ہی اپنی فیشن برانڈ لانچ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، اور اب یہ خواب حقیقت بن رہا ہے۔ ARKS صرف اسنیکرز تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اعلیٰ معیار کی سفید ٹی شرٹس، جینز اور شرٹس بھی فراہم کرے گی۔ 

رنبیر کپور جلد ہی سنجے لیلا بھنسالی کی فلم Love and War میں جلوہ گر ہوں گے، جس میں ان کے ساتھ عالیہ بھٹ اور وکی کوشل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ نیتیش تیواری کی رامائن پر مبنی فلم میں بھی کام کر رہے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رنبیر کپور

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر