راولپنڈی: کزن سے زیادتی اوربلیک میل کرنے پر تاحیات قید
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
راولپنڈی (خبرایجنسیاں) راولپنڈی کی ایڈیشنل سیشن عدالت کے جج باسط علیم نے شادی شدہ کزن سے زیادتی اور بلیک میلنگ کے مجرم اشتیاق کو تاحیات قید کی سزا سنادی۔ مجرم اشتیاق کو دفعہ 376 میں عمر بھر قید اور دیگر دفعات کے تحت 4 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عاید کیا گیا ہے۔ عدالت نے مجرم کو زیادتی کے جرم میں تاحیات قید اور 5 لاکھ جرمانہ عاید کیا ہے جبکہ بلیک میل کرکے بھتہ لینے کے جرم میں 2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عاید کیا ہے۔ مجرم کو ہتھیائے گئے مال کی برآمدگی کی دفعہ کے تحت 2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق مجرم اشتیاق علاج کی غرض سے اپنی چچا زاد کے گھر رہنے آیا تھا، مجرم نے شادی شدہ کزن سے زیادتی کی اور بلیک میل کرکے رقم اور زیور لیتا رہا، واقعہ کا مقدمہ گزشتہ سال تھانہ صدر واہ میں درج کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قید اور
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔