بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں 2 پولیس اہل کار شہید ہو گئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بنوں میں فتح خیل چوکی پر رات گئے دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس میں 2 پولیس اہل کار جام شہادت نوش کر گئے۔
رپورٹ کے مطابق شہید اہل کاروں کی شناخت ضیا اللہ اور رحیم اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے، پولیس کے دونوں شہداء کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بتایا کہ فتح خیل چوکی پر دو دن میں دہشت گردوں نے دوسری مرتبہ حملہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں میں فتح خیل چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی ہے۔
یاد رہے کہ اسی چوکی پر دہشت گردوں کی جانب سے گزشتہ شب بھی حملہ کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چوکی پر دہشت گردوں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔