شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، دہشت گردی میں ملوث افغان شہری مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران دہشت گردی میں ملوث افغان شہری مارا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آپریشن 6 فروری کو شمالی وزیرستان کے جنرل علاقے دتہ خیل میں کیا گیا جس کے دوران دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری مارا گیا۔
بیان کے مطابق اس شخص کی شناخت لقمان خان عرف نصرت (افغان نیشنل) کے طور پر ہوئی، یہ دہشت گرد کمال خان کا بیٹا ہے، جو سپیرا ڈسٹرکٹ، خوست صوبہ، افغانستان کا رہائشی ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق افغان شہری ہونے کے ناطے اس شخص کی لاش کو تحویل میں لینے کے لیے عبوری افغان حکومت کے حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے، اس طرح کے واقعات پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی، دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک