7 خوارجیوں کو ہلاک کرنے پر وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کا سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
سٹی 42: 7 خوارجیوں کو ہلاک کرنے پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں 7 خوارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں خوارجی دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا۔ خوارجی دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو شاباش دیتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کے آپریشنز لائق تحسین ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی بہادری پر قوم کو فخر ہے۔خوارجی دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لئے قوم یکسو ہے۔ قوم خوارجی دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں کو سراہتی ہے۔
راولپنڈی میں آپریشن،غیر قانونی 205 افغان باشندوں کو ملک بدر کر دیا گیا
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع شمالی وزیرستان میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی ،وزیراعظم نے ان آپریشنز میں 7 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ،وزیر اعظم نے کہا پوری قوم سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہیں
وزیرکھیل فیصل کھوکھر کی ریکارڈمدت میں قذافی سٹیڈیم کی تعمیر پر محسن نقوی کو مبارکباد
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محسن نقوی شہباز شریف محسن نقوی شہباز شریف خوارجی دہشتگردوں کے فورسز کو خراج تحسین سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔