پاراچنار :پٹرولیم مصنوعات کا بحران شدید، 1200 روپے لیٹر فروخت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
پاراچنار(نیوزڈیسک) پارا چنار میں حالات درست ہونے کے بجائے دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں ۔ راستوں کی طویل بندش کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت ۔ اپر کرم کے مختلف مقامات پر فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل 1200 روپے میں فروخت جاری جبکہ ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے سبب لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ پیدل جانے پر مجبور ہیں۔
پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے پیٹرول اور ڈیزل کے دو درجن سے زائد ٹینکرز ہنگو میں روک دیئے گئے جس کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی معطل ہو چکی ۔ پاراچنار شہر میں پانی کی سپلائی بھی شدید متاثر ۔ٹرانسپورٹ تنظیموں اور شہری عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ قافلے میں پیٹرول اور ڈیزل کے ٹینکرز کو شامل کر کے بحران کا فوری حل نکالا جائے، تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔
سعودی عرب،یواے ای سمیت 7 ممالک سے مزید 76 پاکستانی ڈی پورٹ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پیٹرول اور ڈیزل
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔