تحریک انصاف کا آٹھ فروری الیکشن چوری کے خلاف اور عمران خان کے ساتھ یکجہتی کے لئے پیرس میں بڑا اجتماع
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
پیرس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 فروری2025ء) پاکستان تحریک انصاف فرانس کے زیر اہتمام آٹھ فروری کے الیکشن چوری کے خلاف ایک احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا- جلسے میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی- جن میں خواتین بھی کافی تعداد میں شریک ہوئیں - تلاوت قرآن اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں پر عمران خان کے ساتھ یکجہتی کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں - ان کا کہنا تھا کہ ہم ان قوتوں سے سوال کرتے ہیں کہ 2024 کا الیکشن جب عمران خان اور تحریک انصاف نے کثرت رائے سے جیتا تھا تو پھر فارم 47 والوں کو اقتدار کیوں منتقل کیا گیا- ان کا کہنا تھا کہ ہم خان کے سپاہی ہیں اور ہر قدم پر اس کے ساتھ کھڑے ہیں- مقررین کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں کو ڈی چوک میں شہید کیا گیا ہمارا آج بھی یہی سوال ھے کہ گولی کیوں چلائی ؟ ہماری جدوجہد پاکستان کی حقیقی آزادی تک جاری رہے گی - مقررین کا کہنا تھا کہ آج فرانس میں یہ عظیم الشان اجتماع یہ سوال کرتا ھے کہ ہمارا ووٹ کا حق کیوں چھینا گیا ھے- ہمارا پارٹی نشان بھی چھین لیا گیا تھا - ہمارے کارکنوں کو گھروں سے اٹھایا لیا گیا، ہماری خواتین کی بے حرمتی کی گئی ، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ، الیکشن میں ہمارے امیدواروں کو عجیب و غریب قسم کے نشانات الاٹ کئے گئے تھے اس کے باوجود عوام نے عمران خان اور تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ کیا- تحریک انصاف کے اس بڑے اجتماع سے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری ، ایم این اے احمد چھٹہ اور جنرل سیکرٹری سنٹرل پنجاب تحریک انصاف بلال جٹ نے ٹیلیفونک خطاب کیا- انہوں نے فرانس کی تنظیم خصوصی طور پر ملک عابد، افضال گوندل، ماجد چیمہ کو اتنا شاندار جلسہ منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی- ان کا کہنا تھا کہ ہم 8 فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں ، کیونکہ اس دن ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا- ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت فسطائیت کا دور دورہ ہے - آٹھ فروری کے دن ہماری آزادی اور ہمارا بنیادی آئینی حق بھی چھینا گیا تھا - انہوں نے مزید کہا کہ کہ پاکستان میں تحریک انصاف کے کارکنان پر سخت مشکل اور ابتلاء کا دور ہے ، مگر اس کے باوجود ہمارے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہےاور وہ اسی جذبے کے ساتھ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ، مقررین کا کہنا تھا کہ تمام اوورسیز پاکستانیوں کو چاہئے کہ وہ پاکستان میں زرمبادلہ بھیجنا بند کردیں، اگر ایسا ہوجائے تو یہ حکومت دو ماہ میں گر جائے گی- صدر تحریک انصاف فرانس ملک عابد نے جذباتی خطاب کرتے ھوئے شہباز گل پر شدید تنقید کی - ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے شہباز گل کو شرم انی چاہئے کہ وعدے کے باوجود وہ اس جلسے میں شریک نہیں ہوئے اور معذرت کا ایک پیغام تک نہیں بھیجا - ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل کی کوئی حیثیت نہیں اگر وہ عمران خان کے ساتھ نہ ہو تو اس کی دو ٹکے کی وقعت نہیں ہے ، تحریک انصاف کے اس بڑے اجتماع نے متفقہ طور پر عمران خان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کے ساتھ کا کہنا تھا کہ ہم ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے شہباز گل کیا گیا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔