بانی پی ٹی آئی کی کال نظر انداز؛ بیرون ممالک پاکستانیوں نے 3 ارب ڈالر ملک میں بھیج دیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک :اوورسیز نے بانی پی ٹی آئی کی کال نظر انداز کردی ؛ 3 ارب ڈالر کے ترسیلات ایک ماہ میں بھیج دیے
سال 2025 کے پہلے ماہ میں بیرون ملک مقیم (اوورسیز) پاکستانیوں نے 3 ارب ڈالر ملک بھیجے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق جنوری 2025 میں ورکرز ترسیلات 3 ارب ڈالر رہیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جنوری 2024 کے مقابلے میں جنوری 2025 میں 25 فیصد زیادہ رقوم بھیجی ہیں۔ رواں مالی سال کے سات مہینوں کی ورکرز ترسیلات 20.
پاکستان اڑان بھرنے کیلئے تیار، پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے: احسن اقبال
خیال رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دسمبر 2024 میں بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاجاً ترسیلات زر ملک میں نہ بھیجیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ارب ڈالر
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔