ریاض، میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش ’لیپ‘ کا دوسرا دن کیسا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش ’لیپ‘ 2025 کا دوسرا دن مزید جوش، جدت اور حیران کن انکشافات سے بھرپور رہا۔ جہاں پہلے دن عالمی ٹیکنالوجی ماہرین نے مستقبل کی راہیں متعین کیں، وہیں آج ایونٹ میں مصنوعی ذہانت، بائیوٹیک، اسپیس ٹیک اور اسمارٹ سٹیز کے میدان میں انقلابی پیشرفت متعارف کروائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض میں لیپ 2025 کا آغاز، دنیا بھر سے ٹیکنالوجی ماہرین کی شرکت
جدید ترین روبوٹس، خودکار گاڑیاں اور ذہانت سے بھرپور سافٹ ویئرز ہر کسی کی توجہ کا مرکز بنے رہے، اسٹارٹ اپ زون میں نوجوان کاروباریوں نے اپنی اختراعات پیش کیں، جبکہ سرمایہ کاروں اور انٹرپرینیورز کے درمیان نتیجہ خیز ملاقاتیں ہوئیں۔
سعودی وژن 2030 کے تحت ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے عزم کو مزید تقویت ملی، ریاض اب محض مشرق وسطیٰ کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی قیادت سنبھالنے والا مرکز بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش لیپ کا آغاز
یاد رہے کہ سعودی عرب میں آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش لیپ کا آغاز گزشتہ روز شروع ہوئی تھی، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے 1800 سے زائد کمپنیوں کی جانب سے اسٹالز لگائے گئے ہیں۔
پاکستانی پویلین کا افتتاح وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کیا، پاکستان سے 80 کمپنیوں نے اسٹالز لگائے ہیں جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
کانفرنس میں مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، بگ ڈیٹا، بائیوٹیک، اور بلیک چین جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر روشنی ڈالی جائے گی، جبکہ دنیا کے نامور ماہرین ان شعبوں میں ہونے والی پیشرفت اور ان کے اثرات پر گفتگو کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا ایونٹ ’لیپ 2025‘
اس کے علاوہ لیپ 2025 میں مختلف ورکشاپس، سیمینارز اور پینل ڈسکشنز کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے، جہاں نئی اختراعات اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آنے والے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان ٹیکنالوجی نمائش سعودی عرب شزا فاطمہ خواجہ لیپ مصنوعی ذہانت،.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹیکنالوجی نمائش شزا فاطمہ خواجہ لیپ مصنوعی ذہانت آئی ٹی کی بین الاقوامی نمائش
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش