خلا میں موجود روشنی کا یہ دائرہ کیا چیز ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
خلا میں تیرتی ایک انتہائی طاقتور ٹیلی اسکوپ نے دور دراز کہکشاں کے گرد روشنی کا ایک نایاب ’آئنسٹائن رنگ‘ دریافت کر لیا۔
یورپی خلائی ایجنسی کی یوکلڈ ٹیلی اسکوپ نے زمین سے تقریباً 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود کہکشاں این جی سی 6505 کے گرد موجود روشنے کے ہالے کی عکس بندی کی۔
روشنی کا یہ دائرہ ایک دوسری کہکشاں کی وجہ سے بن رہا ہے جو کہ زمین سے 4.
جرنل آسٹرونومی اینڈ آسٹروفزکس میں آج شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پشت پر موجود کہکشاں سے آنے والی روشنی کو این جی سی 6505 کی کشش مسخ کر رہی ہے۔
اوپن یونیورسٹی کے ایک ماہرِ فلکیات پروفیسر اسٹیفن سرجنٹ کا کہنا تھا کہ ابتدائی ڈیٹا میں یہ ایک خوب صورت، غیر معمولی، دلچسپ اور خوش قسمت دریافت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی آئنسٹائن رِنگ کا اتنا مکمل ہونا انتہائی نایاب ہوتا ہے۔ پس منظر میں موجود کہکشاں کو سامنے موجود کہکشاں کے سبب مسخ زمان و مکان کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔