16 ممالک جانیوالے 47 مسافر کراچی ایئر پورٹ پر آف لوڈ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
کراچی ائیرپورٹ —فائل فوٹو
کراچی ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک جاتے ہوئے مختلف وجوہات پر 47 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیا۔
برطانیہ کے اسٹوڈنٹ ویزے پر جانے کی کوشش کرنے والے 2 مسافروں سمیت 16 ممالک کے 47 افراد کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی ایئر پورٹ پر آف لوڈ کیا گیا ہے، جن میں 3 بلیک لسٹ مسافر بھی شامل ہیں۔
ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق اسٹوڈنٹ ویزے پر برطانیہ جانے والی طالبہ سمیت 2 نوجوان طلبہ کو آف لوڈ کر دیا گیا۔
سعودی عرب، کینیڈا، امارات سمیت 6 مختلف ملکوں سے 24 گھنٹے کے دوران مزید 100 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے سی وزٹ ویزے کے 1، ترکی میں فیسٹیول نمائش کے لیے ویزے پر جانے والے شخص کو ایونٹ سے تعلق نہ ہونے پر آف لوڈ کیا گیا جبکہ سعودیہ کے 19 عمرہ زائرین کو ایڈوانس ہوٹل بکنگ اور اخراجات کے لیے مناسب رقم نہ ہونے پر سفر سے روکا گیا، جن میں 1 بلیک لسٹ مسافر بھی شامل ہے۔
سعودی عرب میں ورک ویزے پر جانے والے 2 افراد کو بلیک لسٹ ہونے پر پرواز سے روک دیا گیا، مالدیپ اور لائبیریا کے آن آرائیول ویزے کے 2 مسافروں کو بھی آف لوڈ کر دیا گیا۔
جنوبی افریقا میں رہائشی پرمٹ پر 1 مسافر کو آئی ڈی کے بغیر سفر کرنے پر اُتارا گیا، قطر میں ورک ویزے کے 1 اور ویزا آن آرائیول کے 3، عمان میں فیملی وزٹ کے 2، گیانا میں ملازمت کے ویزے پر 2، گھانا میں ٹورسٹ ویزے پر 2، تنزانیہ اور ملاوی میں ٹورسٹ ویزے پر 2، ملاوی کے ورک پرمٹ پر 2، تھائی لینڈ میں ٹورسٹ ویزے پر 3، ملائشیا اور انڈونیشیا میں ٹورسٹ ویزے پر 2 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں ٹورسٹ ویزے پر کر دیا گیا ایئر پورٹ ویزے پر 2 آف لوڈ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔