سول ملازم ملازمت کی آڑ میں دشمن ملک کے لیے جاسوسی کرے تو ٹرائل کہاں ہوگا؟.آئینی بینچ کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری ۔2025 )سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ آرمی میں سول ملازمین بھی ہوتے ہیں اگر سول ملازم ملازمت کی آڑ میں دشمن ملک کے لیے جاسوسی کرے تو ٹرائل کہاں ہوگا؟عدالت عظمی میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق اپیلوں کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے اہم نکات اٹھائے.
(جاری ہے)
سپریم کورٹ آئینی عدالت کے سات رکنی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی بینچ میں دیگر ججوں میں جسٹس جمال خان مندوخیل‘ جسٹس نعیم اختر افغان‘ جسٹس حسن اظہر رضوی‘ جسٹس مسرت ہلالی‘ جسٹس محمد مظہر علی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل ہیں دوران سماعت وکیل بیرسٹر سلمان اکرم نے دلائل دیے جسٹس محمد علی مظہر نے دوران سماعت دلائل سنتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پانچ رکنی بینچ نے سیکشن ٹو ڈی ختم کر دیا تھا سیکشن ٹو ڈی ختم ہونے کے بعد جاسوس عناصر کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکے گا. سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی میں موجود سول ملازمین آرمی ایکٹ کے تابع ہوتے ہیں جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ کے تابع ہونے پر نوکری سے فارغ کردیا جائے گا لیکن سیکشن ٹو ڈی کی عدم موجودگی میں ٹرائل کہاں ہو گا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے بھی سوال اٹھایا کہ آرمی ایکٹ کے تابع سول ملازم جاسوسی پر تادیبی کاروائی الگ اور ملٹری ٹرائل الگ ہو گا؟ سلمان اکرم راجہ نے جواباً کہا کہ ایسا نہیں کہ ٹو ون ڈی شق کے بغیر ریاست کا کاروبار نہیں چل سکتا. ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے کہاکہ 1965 کی پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جو مذاکرات ہوئے تھے ان کے خلاف پاکستان میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے تھے جس کے بعد آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کا اضافہ کیا گیا تھا جس کے تحت عام شہریوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں چلائے جا سکتے تھے. جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر کوئی سویلین مڈل مین خفیہ راز دشمن کے حوالے کرنے تو ٹرائل کہاں ہو گا؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ اس کا ٹرائل سپیشل انڈر آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہو گا آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کا مکمل طریقہ کار موجود ہے میں اصول اور قانون کے خلاف اپنی مرضی سے توڑ موڑ کر دلائل نہیں دوں گا کلبھوشن کا کیس آپ کے سامنے ہے دنیا میں ایسا نہیں ہوتا آئینی بنیادی حقوق دے کر ایک انگلی کے اشارے سے چھین لیے جائیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ کمانڈنگ آفیسر کہے مجھے فلاں ملزم کو میرے حوالے کرو. سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں نے ریکارڈ چیک کیا ہے دسمبر 1967 میں پارلیمنٹ کے ذریعے سیکشن ٹو ون ڈی ٹو کی منظوری کی گئی تھی سپریم کورٹ ایف بی علی کیس پر نظرثانی کیے بغیر آرمی ایکٹ کی شقوں کا جائزہ لے سکتی ہے جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ کیا ہم آئین کے پابند ہیں یا عدالتی فیصلے کے پابند ہیں سلمان راجہ نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام ہے لیکن عدالت کے لیے ضروری نہیں ہیں . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاکہ اگر آئین میں تبدیلی ہو جائے تو کیا ہو گا؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ پھر تو صورت حال ہی مختلف ہو گی ایف بی علی کیس فیصلے کے وقت آرٹیکل 175 کی شق تین نہیں تھی جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہم نے مرکزی فیصلے پر نظرثانی کرنی ہے یکسانیت بھی لانی ہے تشریح بھی کرنی ہے پتہ نہیں اور کیا کیا کرنا ہے. سلمان راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بند دروازوں کے پیچھے شفاف ٹرائل نہیں ہو سکتا 19ویں صدی والا کورٹ مارشل اب پوری دنیا میں تبدیل ہو چکا ہے 2025 میں 1860 والے کورٹ مارشل کی کارروائی کا اطلاق یونیفارم پرسنل پر بھی نہیں ہو سکتا پتہ نہیں دو سال تک کیا ہوتا رہا ایک کاغذ تک باہر لے کر جانے کی اجازت نہیں تھی ضمانت کا حق بھی حاصل نہیں. سنیئرقانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ میں ایف بی علی کیس میں ایاز سپرا اور میجر اشتیاق آصف کا وکیل رہا اس وقت ٹرائل اٹک جیل میں ہوتا تھا ٹرائل کے بعد ریکارڈ جلا دیا جاتا تھا جب ٹرائل ختم ہوتا ہماری اٹک قلعے سے نکلتے ہوئے مکمل تلاشی کی جاتی تھی ایک کاغذ تک نہیں لے کر جانے دیا جاتا تھا جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ اس وقت مارشل لاءکا دور تھا. دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کا سلمان راجہ سے دلچسپ مکالمہ بھی ہوا جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا ہوں برا نہ مانیے گا آپ کی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ آج کل سیاسی وابستگی بھی ہے جب آپ کی سیاسی پارٹی کی حکومت تھی اس وقت آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی اس وقت پارلیمنٹ نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی. سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میں اس وقت پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھامیں تو ہمیشہ اپوزیشن کی طرف رہا اس کے بعد عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی سلمان اکرم راجہ جمعرات کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے سلمان اکرم راجہ کی جانب سے اعتزاز احسن لطیف کھوسہ فیصل صدیقی دلائل دیں گے جبکہ وزارت دفاع کے وکیل کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں.
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سلمان اکرم راجہ نے جواب جسٹس محمد علی مظہر نے راجہ نے جواب دیا کہ ٹرائل کہاں ہو سپریم کورٹ جسٹس جمال آرمی ایکٹ نے کہا کہ سیکشن ٹو نہیں ہو ایکٹ کے کہ آرمی کے بعد
پڑھیں:
عمران خان کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزر چکا، اب جسمانی ریمانڈ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کیلئے دائر حکومت پنجاب کی اپیلیں نمٹا دیں جب کہ دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ملزم کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزر چکا اب تو جسمانی ریمانڈ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر حکومت پنجاب کی اپیلوں پر سماعت کے دوران کہا کہ پنجاب حکومت چاہے تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکلا دراخواست دائر ہونے پر مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزر چکا اب تو جسمانی ریمانڈ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پراسیکیوٹر زوالفقار نقوی نے کہا کہ ملزم کے فوٹو گرامیٹک، پولی گرافک، وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ درخواست میں استدعا ٹیسٹ کرانے کی نہیں، جسمانی ریمانڈ کی تھی۔
جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ کسی عام قتل کیس میں تو ایسے ٹیسٹ کبھی نہیں کرائے گئے، توقع ہے عام آدمی کے مقدمات میں بھی حکومت ایسے ہی ایفیشنسی دکھائے گی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ڈیڑھ سال بعد جسمانی ریمانڈ کیوں یاد آیا، اسپیشل پراسیکیوٹر زوالفقار نقوی نے مؤقف اپنایا کہ ملزم بانی پی ٹی آئی نے تعاون نہیں کیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جیل میں زیر حراست ملزم سے مزید کیسا تعاون چاہیے، میرا ہی ایک فیصلہ ہے کہ ایک ہزار سے زائد سپلیمنٹری چلان بھی پیش ہو سکتے ہیں، ٹرائل کورٹ سے اجازت لیکر ٹیسٹ کروا لیں۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ استغاثہ قتل کے عام مقدمات میں اتنی متحرک کیوں نہیں ہوتی۔
اسپیشل پراسیکیوٹر زوالفقار نقوی نے استدلال کیا کہ 14 جولائی 2024 کو ٹیم بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کرنے جیل گئی لیکن ملزم نے انکار کردیا، ریکارڈ میں بانی پی ٹی آئی کے فیس بک، ٹیوٹر اور اسٹاگرام پر ایسے پیغامات ہیں جن میں کیا گیا اگر بانی پی ٹی کی گرفتاری ہوئی تو احتجاج ہوگا۔
جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ اگر یہ سارے بیانات یو ایس بی میں ہیں تو جاکر فرانزک ٹیسٹ کروائیں، اسپیشل پراسیکیوٹر زوالفقار نقوی نے مؤقف اپنایا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں ہمارے ساتھ تعاون کیا جائے۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے، 26 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر ہم نے کوئی آبزرویشن دیدی تو ٹرائل متاثر ہوگا، ہم استغاثہ اور ملزم کے وکیل کی باہمی رضامندی سے حکمنامہ لکھوا دیتے ہیں۔
زوالفقار نقوی نے کہا کہ میں اسپیشل پراسیکیوٹر ہوں، میرے اختیارات محدود ہیں، میں ہدایات لیے بغیر رضامندی کا اظہار نہیں کر سکتا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ چلیں ہم ایسے ہی آرڈر دے دیتے ہیں، ہم چھوٹے صوبوں سے آئے ہوئے ججز ہیں، ہمارے دل بہت صاف ہوتے ہیں، پانچ دن پہلے ایک فوجداری کیس سنا،
نامزد ملزم کی اپیل 2017 میں ابتدائی سماعت کیلئے منظور ہوئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کیس میں نامزد ملزم سات سال تک ڈیتھ سیل میں رہا جسے باعزت بری کیا گیا، تین ماہ کے وقت میں فوجداری کیسز ختم کر دیں گے۔
عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کیلئے دائر کی گئی اپیلیں دو بنیادوں پر نمٹائی جاتی ہیں، استغاثہ بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک ٹیسٹ، فوٹو گرافک ٹیسٹ اور وائس میچنگ ٹیسٹ کیلئے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے میں آزاد ہے۔
حکمنامہ کے مطابق بانی پی ٹی کی قانونی ٹیم ٹرائل کورٹ میں ایسی درخواست آنے پر لیگل اور فیکچویل اعتراض اٹھا سکتی ہے۔