ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کب بڑھے گی؟ قومی اسمبلی میں حکام وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کب بڑھے گی؟ قومی اسمبلی میں حکام وضاحت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے وضاحت پیش کردی گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی کی صدارت میں ہوا، جس میں وقفہ سوالات کے دوران انٹرنیٹ کی سست روی کا معاملہ زیر بحث آیا۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی سبین غوری کی جانب سے بتایا گیا کہ اس سال کے وسط تک انٹرنیٹ کی رفتار بڑھ جائے گی اور رواں سال کے وسط تک فائیو جی بھی لانچ کردیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ انٹر نیٹ کی سست رفتاری کی کئی وجوہات ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کوئی ویڈیو ڈان لوڈ نہیں ہوتی, انٹر نیٹ چلتا ہی، رکن اسمبلی شگفتہ جمانی نے کہا کہ بلاول صاحب نے درست کہا تھا کہ پتا نہیں کون سی مچھلی ہے جو صرف پاکستان ہی کی کیبل کھا جاتی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری سبین غوری نے جواب دیا کہ کوئی نہ کوئی مچھلی تو ہے جو انٹرنیٹ کیبل کاٹ جاتی ہے، مگر کون سی مچھلی ہے ہمیں بھی نہیں پتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ کی رفتار قومی اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔