2018ء کے انتخابات میں چوری اور 2024ء میں ڈکیتی ہوئی،شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
کہوٹہ(صباح نیوز)سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں چوری ہوئی اور2024ء میں ڈکیتی ہوئی۔کہوٹہ میں ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ آج پارلیمان میں موجود دو تہائی ارکان اسمبلی پیسے دے کر ایوان میں پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ 24کروڑ عوام کا ملک ہے، اس طرح کام نہیں چلے گا، مجھے ان 3 بڑی سیاسی جماعتوں سے
بہتری کی کوئی امید نظر نہیں، سیاست اصولوں اور آئین کے مطابق کرنا ہوگی، ورنہ ملک آگے نہیں بڑھے گا۔سربراہ عوام پاکستان کا کہنا تھا کہ آج جس قسم کی ملک میں کرپشن ہے،ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی جب تک سیاسی،ملک اس طرح بالکل نہیں چل سکتا، ملک میں انتشار ہو تو معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ نے جب تک ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتی رہی عوام میں مقبول جماعت رہی، ن لیگ کا اقتدار کو عزت دو کا نعرہ عوام نے مسترد کردیا، سیاست کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہر پاکستانی پریشان ہے، سیاست کا کوئی مقصد ہونا چاہیے،جب عوامی نمائندے اپنے اصول چھوڑ دیں تو آئین سے انحراف کرنا شروع کردیں تو ملک میں انتشار پھیلتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔