کوئٹہ، شب برات کی مناسبت پر گلی گلی چراغاں، محافل جشن و اعمال منعقد
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کے مکینوں نے اپنے گھروں اور محلوں کو چراغاں کرتے ہوئے شب برات کا استقبال کیا۔ اسکے علاوہ مساجد و امام بارگاہوں اور سڑکوں کو بھی چراغ سے سجایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ولادت امام زمانہ (عج) اور شب برات کی مناسبت پر بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مختلف علاقوں کو چراغاں کیا گیا ہے، جبکہ مختلف مساجد و امامبارگاہوں میں محفل جشن اور اعمال کا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کے مکینوں نے اپنے گھروں اور محلوں کو چراغاں کرتے ہوئے شب برات کا استقبال کیا۔ اس کے علاوہ مساجد و امام بارگاہوں اور سڑکوں کو بھی چراغ سے سجایا گیا ہے۔ عوام نے شب برات کے موقع پر نذر و نیاز اور مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ جبکہ مختلف مساجد میں اعمال نیمہ شعبان اور شب برات کی مناسبت سے محفل جشن کا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔