لاہور:

اینٹی کرپشن عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف قائم رمضان شوگر مل مقدے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں دونوں بری کردیا گیا ہے۔

اینٹی کرپشن عدالت کے جج سرداد محمد اقبال ڈوگر نے رمضان شوگر مل میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کا 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا کہ اس کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو سزا کا امکان نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، مقدمے کے دیگر گواہوں کو ثبوت کی عدم دستیابی کے باوجود سننا بے سود ہو گا۔

اینٹی کرپشن عدالت کے جج نے فیصلہ دیا کہ مدعی مقدمے کے مطابق اس نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کو کوئی درخواست نہیں دی۔

جج نے کہا کہ نالے کی تعمیر کےلیے تمام قانونی ضابطے پورے کیے گئے تھے، اینٹی کرپشن رمضان شوگر مل نالے کی تعمیر میں بےضابطگی ثابت کرنے میں ناکام رہے اور شہباز شریف کی جانب سے نالے کی تعمیر کے لیے احکامات اس وقت کے ایم پی اے کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف کبھی رمضان شوگر مل کے ڈائریکٹر نہیں رہے، نالے کی تعمیر کے وقت حمزہ شہباز کی رمضان شوگر مل کے سی ای او نہیں تھے، کسی گواہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ایک لفظ کی گواہی بھی نہیں دی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو رمضان شوگر مل کرپشن کیس سے بری کیا جاتا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل شہباز شریف اور حمزہ شہباز رمضان شوگر مل نالے کی تعمیر حمزہ شہباز کی اینٹی کرپشن فیصلے میں میں کہا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری