رمضان شوگر مل مقدمے کا 12صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
لاہور(نمائندہ جسارت) اینٹی کرپشن عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف قائم رمضان شوگر مل مقدے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں دونوں بری کردیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج سرداد محمد اقبال ڈوگر نے رمضان شوگر مل میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کا 12صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا کہ اس کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو سزا کا امکان نہیں ہے۔فیصلے میں کہا گیا
ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں، مقدمے کے دیگر گواہوں کو ثبوت کی عدم دستیابی کے باوجود سننا بے سود ہو گا۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج نے فیصلہ دیا کہ مدعی مقدمے کے مطابق اس نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کو کوئی درخواست نہیں دی۔جج نے کہا کہ نالے کی تعمیر کیلیے تمام قانونی ضابطے پورے کیے گئے تھے، اینٹی کرپشن رمضان شوگر مل نالے کی تعمیر میں بیضابطگی ثابت کرنے میں ناکام رہے اور شہباز شریف کی جانب سے نالے کی تعمیر کے لیے احکامات اس وقت کے ایم پی اے کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف کبھی رمضان شوگر مل کے ڈائریکٹر نہیں رہے، نالے کی تعمیر کے وقت حمزہ شہباز کی رمضان شوگر مل کے سی ای او نہیں تھے، کسی گواہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ایک لفظ کی گواہی بھی نہیں دی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو رمضان شوگر مل کرپشن کیس سے بری کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل شہباز شریف اور حمزہ شہباز رمضان شوگر مل نالے کی تعمیر اینٹی کرپشن فیصلے میں میں کہا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔