Daily Ausaf:
2026-07-24@13:46:35 GMT

تحریک انصاف کا ڈوزئیر، اقتصادی تخریب کاری

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT

آئی ایم ایف کو بھیجے گئے ڈوزئیر کا چرچا ہو رہا ہے۔ حسب معمول یہ ناخوشگوار حرکت تحریک انصاف نے کی ہے۔ اس حرکت کو سیاسی مفادات کے لیے ملکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے بدترین مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ سابق حکمران جماعت ہونے کے ناطے تحریک انصاف کے کرتا دھرتا قائدین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک کو مستحکم کرنے کے لئے معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کی بدولت معیشت ڈانواں ڈول رہی ہے۔ اپنے ساڑھے تین سالہ عہد اقتدار میں تحریک انصاف نے ملکی معیشت کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت گنوانے کے بعد تحریک انصاف کے قائد اور ان کے ترجمان ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی قوالی کرتے رہے۔ ایسی مایوس کن پیش گوئیوں کی بدولت ملک میں معاشی اور سیاسی بے یقینی بڑھتی گئی۔ پی ڈی ایم کے پرچم تلے بننے والی حکومت بھی تحریک انصاف کے پھیلائے ہوئے معاشی بحران پر پوری طرح قابو نہ پا سکی۔ تاہم اتنا ضرور ہوا کہ ملک ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا ۔
الیکشن سے قبل نگراں حکومت اور اب نون لیگ کے دور میں معاشی استحکام کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے مثبت اثرات ظاہر ہو رہے ہیں ۔عالمی ادارے پاکستان کی معاشی بحالی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ اگرچہ معاشی ترقی کی رفتار آہستہ ہے تاہم یہ پیچیدہ سفر درست سمت میں جاری ہے۔ کامیابی کے حصول کے لئے اصلاحات کے عمل میں تسلسل اور اجتماعی دانش نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ بدقسمتی سے حزب اختلاف کی جانب سے مسلسل منفی طرز عمل اختیار کیا جا رہا ہے گزشتہ برس آئی ایم ایف سے مالیاتی پیکج کے حصول کے موقع پر بھی تحریک انصاف نے قابل اعتراض حکمت عملی تیار کی تھی ۔ سیاسی اختلافات کو بنیاد بنا کر آئی ایم ایف کے مالیاتی پیکج میں روڑے اٹکانے کی کوششیں کی گئیں۔ آئی ایم ایف کو خط کے ذریعے اپیل کی گئی کہ پاکستان کو مالیاتی پیکج نہ دیا جائے۔ آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر کے سامنے تحریک انصاف کی مٹھی بھر حامی مظاہرہ کرتے رہے۔ بار بار یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو مالیاتی پیکج نہ دے۔ سنجیدہ طبقات نے تحریک انصاف کی اس منفی روش کی بھرپور مذمت کی۔
عالمی مالیاتی ادارے کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے نہیں بلکہ ریاست سے معاملات طے کرتے ہیں ۔ مالیاتی پیکج نون لیگ یا تحریک انصاف کو نہیں بلکہ ریاست پاکستان کو دیا جاتا ہے۔ سنگین مالیاتی بحران کی کیفیت میں پاکستان اپنی خوشی سے نہیں بلکہ بحالت مجبوری آئی ایم ایف سے قرض لینے کا کڑوا گھونٹ پی رہا ہے ۔ایسے موقع پر اگر آئی ایم ایف تحریک انصاف کی خواہش پر مالیاتی پیکج منظور نہ کرے تو معاشی اقتصادی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ نون لیگ کی حکومت کو گرانے کے لیے تحریک انصاف ملک کو ڈیفالٹ کروانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔مقام افسوس ہے کہ ڈیفالٹ کے بعد عوام کے سر پر ٹوٹنے والے اقتصادی بحران کا احساس تحریک انصاف کی قیادت کو بالکل نہیں۔ گزشتہ برس اس معاملے میں منہ کی کھانے کے بعد بھی تحریک انصاف نے اپنی روش نہیں بدلی۔ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کو بھیجا گیا ڈوزئیر یہ ثابت کرتا ہے کہ تحریک انصاف کو ملک اور عوام کی کوئی فکر نہیں۔ ملک کو مستحکم کرنے کے بجائے نون لیگ کی حکومت کو گرانا ہی دراصل تحریک انصاف کا اصل مقصد ہے۔ ڈوزئیر میں تحریک انصاف نے معاشی معاملات کے بجائے روایتی الزامات کے راگ الاپے ہیں۔ ماضی میں بھی آئی ایم ایف نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیائی پروپیگنڈے کے جواب میں یہ وضاحت دی تھی کہ عالمی مالیاتی ادارہ ہونے کے ناطے وہ کسی بھی ملک کے سیاسی ،قانونی اور آئینی اختلافی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ بات تحریک انصاف کو یا تو سمجھ نہیں ارہی یا پھر جماعت کے کرتا دھرتا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ ماضی میں ایبسولوٹلی ناٹ کا پرچم بلند کرنے والی جماعت بار بار غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کو ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی عرضیاں پیش کر رہی ہے ۔بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر قومی مفادات کو قربان کرنے کی روش ترک کر کے ذمہ دارانہ طرز سیاست اختیار کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کی تحریک انصاف کے تحریک انصاف نے ا ئی ایم ایف نون لیگ رہا ہے ملک کو کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم