باجوڑ: ایف آئی اے کی کارروائی، لیبا کشتی حادثے میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
—فائل فوٹو
ایف آئی اے کوہاٹ زون نے کارروائیوں کے دوران لیبیا کشتی حادثے 2025 میں ملوث بین الاقوامی گینگ کے 2 کارندے گرفتار کرلیے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے دیگر ساتھی اٹلی سے انسانی اسمگلنگ کا گینگ چلا رہے تھے، ملزمان کو چھاپہ مار کارروائی میں پشت بازار باجوڑ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
ملزمان کے زیرِ استعمال 3 بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں، انٹرپول کی مدد سے بیرونِ ملک انسانی اسمگلرز کی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔
سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 9 ملکوں سے 1 دن میں مزید 47 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ کشتی حادثے میں کرم سے تعلق رکھنے والے 14 متاثرین جاں بحق ہوئے تھے۔
لیبیا میں متاثرین کو سیف ہاؤسز میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا تھا۔
ملزمان نے متاثرین کو کشتی میں لیبیا سے یورپ بھجوانے کی کوشش کی جو حادثے کا شکار ہو گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔