سینیٹر عرفان صدیقی(فائل فوٹو)۔

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ایم ڈی سی کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا اعلان کیا ہے۔ 

اس حوالے سے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں جھوٹ بولا، پی ایم ڈی سی اپنے سرکلرز پر عملدرآمد کیوں نہیں کراتی؟ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اس کو سنجیدگی سے لینے جا رہا ہوں۔ 

سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ایم ڈی سی نے قائمہ کمیٹی برائے صحت میں غلط معلومات دیں، پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے بچوں سے بھاری فیسیں لی جا رہی ہیں۔ بچوں سے زیادتی نہیں ہونے دوں گا، عدالت بھی جانا پڑا تو جاوں گا۔ 

وزارت صحت کے حکام کے مطابق پرائیویٹ میدیکل کالجز کیلئے ایم بی بی ایس کی سالانہ فیس 12 لاکھ تجویز کی ہے، یہ تجاویز نائب وزیراعطم اسحاق ڈار کو بھیجی ہوئی ہیں۔ 

پی ایم ڈی سی نے 8 جنوری کو نئے اور پچھلے سال کے طلبا سے فیس وصولی روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ دستاویز کے مطابق پرائیویٹ میڈیکل کالج طلبا سے 30 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کر رہے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق پی ایم ڈی سی اپنے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی۔ دستاویز کے مطابق پرائیویٹ میدیکل کالج نئے اور دوسرے سال کے طلبا سے فیسیں وصول کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی پی ایم ڈی سی کے مطابق

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم