اسلام آباد (آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک) ایوان بالا میں اپوزیشن کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجا ج پر پی ٹی آئی کے 3 اراکین کی رکنیت معطل کردی ، سینیٹر عون عباس ،سینیٹر ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند اور سینیٹر فلک ناز چترالی کو ایوان سے نکالنے کا حکم دیدیا گیا،سینیٹ میں اپوزیشن نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بل پر ووٹنگ کا نتیجہ نہ بتانے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف کا شدید احتجاج کیا، وزارت داخلہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے کے سزا یافتہ افسران کی فہرست سینیٹ میں پیش کردی۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، ایوان بالا میں ڈپٹی چیئرمین استعفیٰ دو، چیئرمین سینیٹ کو بازیاب کرو اور شرم کرو حیا کرو کے نعرے گونجتے رہے۔ اپوزیشن سینیٹرز چیئرمین سینیٹ ڈائس کے قریب پہنچ گئے، اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رولز کے مطابق آپ نے ووٹنگ کا نتیجہ بتانا ہے، آپ نے اپوزیشن سینیٹرز کو بھونکنے سے تشبیہ دی۔ اپوزیشن کے شدید احتجاج پر ڈپٹی چیئرمین نے واضح کردیا کہ کسی کی من مانی سے نہیں یہ ہاؤس قانون کے مطابق چلایا جائے گا، وہ کل کے واقعے پر وضاحت دے چکے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ خاموش ہو جائیں، تھک جائیں گے، بعدازاں ڈپٹی چیئرمین نے پی ٹی آئی کے 3 سینیٹرز عون عباس، ہمایوں مہمند اور فلک ناز چترالی کی رکنیت معطل کردی۔ دریں اثنا، انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے کے سزا یافتہ افسران کی تعداد سینیٹ میں پیش کردی گئی، وزارت داخلہ کے مطابق 3 برسوں کے دوران 51 ایف آئی اے افسران انسانی اسمگلرز کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث پائے گئے،وزارت داخلہ کے مطابق انسانی اسمگلروں سے ملی بھگت پر 2022 کے دوران 6 افسران نوکریوں سے برطرف کیے گئے، 2023 کے دوران 4 افسران اور 2024 میں 41 افسران کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا، بعدازاں سینیٹ کا اجلاس جمعے کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ ڈپٹی چیئرمین کے مطابق

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے