سیرینا اور ایف9 انڈرپاسز کی تعمیر میں کتنے ارب روپے خرچ کیے گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی کو بہتر کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 2 بڑے منصوبوں ایف9 انڈرپاس اور سیرینا انڈرپاس کی تعمیر کا فیصلہ گزشتہ سال کیا، ایف9 انڈرپاس کے ایک حصے کو ریکارڈ 42 دنوں میں مکمل کرنے کے بعد اب اسے مکمل طور پر فعال کردیا گیا ہے۔
حکومت سے اس انڈرپاس کو ترک صدر رجب طیب اردوان نام سے موسوم کردیا گیا ہے، دوسری جانب کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سیرینا انڈرپاس کو ریکارڈ 72 دنوں میں مکمل کرتے ہوئے 4 فروری کو ٹریفک کے لیے کھول دیا تھا، وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان دونوں منصوبوں کا ٹھیکہ کس کمپنی کو دیا گیا اور اس پر کتنی لاگت آئی؟
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے جناح ایونیو انٹرچینج انڈر پاس کا افتتاح کردیا
ایف9 انڈرپاس کا ٹھیکہ میک سنز انجینئرنگ کارپوریشن کو دیا گیا جس کی مجموعی لاگت 4 ارب روپے تھی، اس سے جی8، جی9، ایف8، ایف9 کو آنے اور جانے والی ٹریفک کو سہولت حاصل ہوگی۔
اس منصوبے کے پہلے انڈرپاس کوریکارڈ 42 روز کی مدت میں ٹریفک کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا اور گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے اس کا باضابطہ افتتاح بھی کردیا ہے، اب متعلقہ انٹرچینج مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں رجب طیب اردوان ایف8 انٹرچینج فعال کردیا گیا
سیرینا انڈرپاس کا ٹھیکہ حبیب کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا تھا اور اس منصوبے کی مجموعی لاگت 4 ارب 25 کروڑ روپے تھی۔
مذکورہ منصوبے سے سیرینا ہوٹل، شاہراہ دستور، آب پارہ اور سرینگر ہائی وے کے ذریعے مری جانے والی ٹریفک کو سہولت حاصل ہو گی، اس منصوبے کو ریکارڈ 72 روز کی مدت میں مکمل کرتے ہوئے 4 فروری کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آب پارہ ایف9 انڈرپاس ترک صدر ٹریفک رجب طیب اردوان سرینگر ہائی وے سیرینا انڈرپاس شاہراہ دستور شہباز شریف کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی مری وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آب پارہ ایف9 انڈرپاس ٹریفک رجب طیب اردوان سرینگر ہائی وے سیرینا انڈرپاس شاہراہ دستور شہباز شریف سیرینا انڈرپاس ایف9 انڈرپاس ٹریفک کے لیے کھول دیا دیا گیا
پڑھیں:
بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
کوئٹہ:پی ڈی ایم اے نے بلوچستان میں مون سون کے دوران جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کردی، دوماہ کے دوران بارشوں کے باعث چار بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے مرد اور خاتون جان کی بازی ہارگئے، خضدار میں آسمانی بجلی اور چھت گرنے سے بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے تین بچوں سمیت چار افراد لقمہ اجل بن گئے، چھتیں گرنے سے 13 بچوں اور دو خواتین سمیت 16افراد زخمی ہوئے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 41 گھروں کو نقصان پہنچا ان میں خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17گھر مکمل تباہ ہوگئے ہوگئے جب کہ 24 کو جزوی نقصان پہنچا۔