سعودیہ میں خطاب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں ایک عظیم انقلاب آ چکا ہے، ثمینہ بیگ واحد خاتون کوہ پیما ہیں جنہوں نے دنیا کی 7 بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ وژن 2030ء ایک خواب نہیں بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ریاض میں سعودی میڈیا فورم 2025ء کے مباحثے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ سعودی عرب میں وژن 2030ء کے تحت رونما ہوئی تاریخی تبدیلیاں دیکھ کر خوشی ہوئی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ایک عظیم انقلاب آ چکا ہے۔ عطاء اللّٰہ تارڑ  نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، ہم الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر کام کر رہے ہیں، پاکستان کی 24 کروڑ کی آبادی میں سے 18 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ہم دریائے سندھ کے کنارے بسنے والی ایک قدیم تہذیب کے امین ہیں، پاکستانی ایک متحرک اور پرجوش قوم ہے جو کے ٹو جیسی بلند چوٹیوں کی محافظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جو سماجی مسائل پر روشنی ڈالے اور لوگوں کو اپنی بات کا موقع دے، میڈیا کے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری مفید اور مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ ٹیلنٹ اور ہنر کی پہچان بہت ضروری ہے، پاکستان میں باصلاحیت افراد موجود ہیں، آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، ثمینہ بیگ پاکستان کا فخر ہیں، ثمینہ بیگ واحد خاتون کوہ پیما ہیں جنہوں نے دنیا کی 7 بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا۔ 

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہترین نیوز اور تفریحی چینلز، فلم سازی، دستاویزی فلمیں بنانےکی بھرپور صلاحیت ہے، پاکستان میڈیا کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کا خیر مقدم کرتا ہے، غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کے پھیلاﺅ کو روکنے کے  لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ عالمی شراکت داری کے ذریعے مقامی میڈیا اداروں میں مثالی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، تعاون کو مزید فروغ دینا ہماری پالیسی کا حصہ ہے۔ عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک عظیم ثقافتی ورثہ ہے، یہاں کے لوگوں کے پاس بہت سی کہانیاں ہیں جو دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہم اپنی صلاحیتوں کا بہتر طریقے سے ادراک کر سکتے ہیں، ترقی اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، فیک نیوز اور مس انفارمیشن سب سے بڑا خطرہ اور چیلنج ہیں جو سماجی مسائل کا باعث بنتے ہیں، ہمیں اس چیلنج کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک عالمی ادارہ ہونا چاہیے جہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے حقائق کی جانچ کا نظام موجود ہو، سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کا استعمال منصفانہ ہونا چاہے، حقائق کی تصدیق کے  لیے جامع، مستند اور معتبر نظام ناگزیر ہے جس پر لوگ بھروسہ کر سکیں، عالمی میڈیا اداروں کی مقامی میڈیا کے ساتھ تعاون اور اشتراک کے لیے تیار ہیں، اس طرح کی شراکت داری سے شفافیت کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

سعودی میڈیا فورم کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا نمائش اور کانفرنس میں اہم شخصیات اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد شریک ہوئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ دنیا کو فیک نیوز کا سامنا ہے۔ کانفرنس اور نمائش میں سعودی ریسرچ اینڈ میڈیا گروپ کے صدر فہد الحارثی، وزیر برائے کلچر اینڈ ٹورزم یمن محمد بن مطاھر، وزیر برائے انفارمیشن بحرین ڈاکٹر عبداللہ النعیمی، عرب لیگ کے سفیر احمد رشید نے شرکت کی۔ سعودی حکام نے دنیا بھر سے آئے ہوئے میڈیا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت سمٹ چکی ہے۔

فورم کا مقصد میڈیا کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور جدید رجحانات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ سعودی میڈیا فورم میں میڈیا پروڈکشن، ڈیجیٹل جرنلزم اور مواد سازی کے بارے میں طریقے تلاش کرنے سمیت ڈیجیٹل دور میں میڈیا، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور مالیاتی استحکام کیلئے نئے بزنس ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔ میڈیا فورم میں فیک نیوز، عوامی اعتماد کی بحالی میں میڈیا اداروں کے کردار کے بارے میں حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ فورم میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، صحافت کا مستقبل، میڈیا اکنامکس، ڈیجیٹل نظام، مس انفارمیشن، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور ڈیجیٹل سٹریمنگ جیسے اہم موضوعات پر مباحثے بھی منعقد ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہ تارڑ نے کہا وفاقی وزیر میڈیا فورم کہ پاکستان میں میڈیا نے کہا کہ میڈیا کے عطاء الل

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان