نیوایئر نائٹ پر جھگڑا، مصطفی کیس کے ملزم شیراز نے دوران تفتیش اہم انکشافات کردیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
نیوایئر نائٹ پر جھگڑا، مصطفی کیس کے ملزم شیراز نے دوران تفتیش اہم انکشافات کردیے WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2025 سب نیوز
کراچی (سب نیوز )کراچی میں دوست کے ہاتھوں قتل ہونے مصطفی عامرکیس میں ملزم شیراز نے تفتیش میں اہم انکشافات کردیے۔ملزم شیراز نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ جب وہ ارمغان کے گھر پہنچا تو مصطفی وہاں پہلے سے موجود تھا، ان دونوں کے درمیان نیو ایئر نائٹ پر جھگڑا ہوا تھا اور اس حوالے سے ارمغان بہت ناراض تھا۔
اس نے بتایاکہ منشیات کے استعمال کے بعد ارمغان نے پہلے مصطفی پر لوہے کی راڈ سے تشدد کیا جس کے باعث مصطفی کے دونوں گھٹنے اور بازو بری طرح زخمی ہوئے اور ان سے خون بہنے لگا، اس کے بعد مصطفی کے ہاتھ پاں باندھ کر اسی کی گاڑی کی ڈگی میں بند کردیا گیا۔ شیراز کا کہنا ہے کہ بدترین تشدد کے باوجود مصطفی زندہ تھا اور اگر اسے اسپتال لے جایا جاتا تو وہ بچ جاتا مگر ارمغان اسے حب لے گیا جہاں اسے گاڑی سمیت جلادیا۔
شیراز کا دعوی ہے کہ اس نے ارمغان کو مصطفی کے قتل سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہیں مانا، وہ مسلح تھا اور اسے بھی مار سکتا تھا۔شیراز کے مطابق ارمغان ایک مالدار گھرانے کا لڑکا ہے اور اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے پولیس کو اطلاع دی تو اسے کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسادیا جائے گا۔ دوسری جانب کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفی عامر کے اغوا اور قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کردی۔
یاد رہے کہ مصطفی عامر کو 6 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا اور پھر ایک ماہ بعد 8 فروری کو پولیس نے مصطفی عامر کی بازیابی کے لیے کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں ایک بنگلے پر چھاپہ مارا تھا جس دوران پولیس پر فائرنگ بھی کی گئی تھی اور مقابلے میں ڈی ایس پی سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔پولیس نے ملزم ارمغان کو حراست میں لیا جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے شیرار کے ساتھ مل کر مصطفی کو اسی کی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لیجا کر جلا دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔