صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی، معروف بزنس اور محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (DOGE) کے نگران ایلون مسک نے وفاقی ملازمین سے ایک ہفتے کی کارکردگی رپورٹ طلب کرلی، رپورٹ جمع نہ کروانے والے ملازمین کو مستعفی ہونے کا مشورہ۔

Consistent with President @realDonaldTrump’s instructions, all federal employees will shortly receive an email requesting to understand what they got done last week.

Failure to respond will be taken as a resignation.

— Elon Musk (@elonmusk) February 22, 2025

امریکا کے وفاقی ملازمین کو ہفتے کے روز ایک ای میل موصول ہوئی جس میں انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ گزشتہ ہفتے میں کی گئی 5 چیزوں کو دستاویز کریں۔

انہوں نے میل میں وفاقی ملازمین پر واضح کیا ہے کہ جو ملازمین جواب نہیں دیں گے وہ اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:یو ایس ایڈ مجرم تنظیم ہے، اس کے ’مرنے‘ کا وقت ہوا چاہتا ہے، ایلون مسک

وفاقی ملازمین کو موصول ہونے والی ’آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ‘ کی ای میل میں سبجیکٹ لائن شامل تھی، ’آپ نے پچھلے ہفتے کیا کیا؟‘۔

ایلون مسک کی جانب سے بھیجی گئی میل میں ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی خفیہ معلومات کو چھوڑ کر، گزشتہ ہفتے میں انہوں نے جو کچھ کیا ہے، اس کا 5 بلٹ پوائنٹس کے ساتھ جواب دیں۔اسی کے ساتھ انہوں نے ملازمین کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ اپنے جوابات OMB ای میل ایڈریس اور اپنے سپروائزر کو بھیجیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے نیا چیٹ بوٹ گروک3 لانچ کردیا

امریکی محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (DOG) کے نگراں ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ’ ای میل کا جواب دینے میں ناکام رہنے والوں کو ان کا استعفیٰ تصور کیا جائے گا‘۔

ایلون مسک نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ ’یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ہے‘۔

واضح رہے کہ وفاقی ملازمین کے نام ایلون مسک کی ای میل کا جواب دینے کی آخری تاریخ پیر کی نصف شب تک ہے۔ تاہم کم از کم امریکا کی 2 ایجنسیوں نے اپنے ملازمین  سے کہا ہے کہ وہ درخواست کو نظر انداز کریں اور جواب نہ دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استعفی امریکا ای میل ایلون مسک ڈونلڈٹرمپ فیڈرل ایجنسیاں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استعفی امریکا ای میل ایلون مسک ڈونلڈٹرمپ فیڈرل ایجنسیاں وفاقی ملازمین ایلون مسک کی ملازمین کو

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا